مشرف کی اپنے مقدمہ پر رائے زنی غیرقانونی، حق حاصل ہے، آئینی ماہرین کی متضاد آراء

لاہور (ایف ایچ شہزاد سے) آئینی ماہرین نے آرٹیکل 6 سمیت اعلیٰ عدالتوں میں زیرسماعت کسی بھی مقدمے سے متعلق ملزم کی طرف سے رائے زنی پر مختلف رائے کا اظہار کیا ہے۔ سپریم کورٹ کے سینئر وکیل اے کے ڈوگر نے کہا کہ کوئی بھی ملزم دستور کے آرٹیکل (2)204 کے سب سیکشن سی کے تحت اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے میں کوئی رائے نہیں دے سکتا۔ سپریم کورٹ ظہور الٰہی بنام ذوالفقار علی بھٹو مقدمہ میں یہ طے کرچکی ہے کہ ایسی رائے دینا جس سے مقدمے پر بالواسطہ یا بلاواسطہ اثر پڑے توہین عدالت کے مترادف ہے۔ اگر پرویز مشرف کی طرف سے اپنے خلاف آرٹیکل 6 کے مقدمے پر رائے دی جاتی ہے تو وہ توہین عدالت ہوگی۔ ڈاکٹر عبدالباسط نے کہا کہ ملزم کا اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے میں کوئی خطاب غلط نہیں تاہم وہ ایسی کوئی بات نہیں کرسکتے جس سے مقدمے کی سماعت یا اس کے فیصلے پر کسی طرح کا اثر پڑنے کا امکان ہو۔ جوڈیشل ایکٹوازم پینل کے چیئرمین محمد اظہر صدیق نے کہا کہ کوئی بھی ملزم اپنے خلاف زیرسماعت مقدمے میں اعتراضات کا اظہار کر سکتا ہے تاوقتیکہ عدالت نے اس پر پابندی نہ لگائی ہو۔ آئین کے تحت ملزم کی طرف سے مقدمے کے بارے میں رائے کا اظہار فیئر ٹرائل کے بنیادی حق کے زمرے میں آتا ہے لہٰذا یہ غیرقانونی نہیں۔