وزیراعظم قومی کانفرنس بلا کر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کریں: منظور گیلانی

لاہور (رپورٹ خواجہ فرخ سعید) استقلال پارٹی کے چیئرمین سید منظور علی گیلانی نے کہا ہے کہ کالاباغ ڈیم فنی نہیں سیاسی ایشو ہے۔ وزیراعظم تکنیکی ماہرین پر معاملہ ڈال کر راہ فرار اختیار مت کریں۔ وزیراعظم فوری طور پر پارلیمنٹ کے اندر اور پارلیمنٹ سے باہر کی جماعتوں کی قومی کانفرنس بلا کر اس میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کریں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایوان وقت میں گزشتہ روز گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور عالمی ادارے کالاباغ ڈیم کو درست اور اچھا منصوبہ قرار دے چکے ہیں۔ اُن کے ماہرین کی رپورٹس اس بات کی گواہ ہیں۔ ورلڈ بنک کالاباغ ڈیم کے لئے پیسے دینے کے لئے اس لئے ہی تیار ہوا وگرنہ بھاشا ڈیم کے لئے ورلڈ بنک پیسے دینے کو تیار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا ذمہ دار سہ جماعتی حکمران اتحاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ لندن اے پی سی میں پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن)‘ جمعیت علماءاسلام‘ جماعت اسلامی اور اے آر ڈی کی دیگر جماعتیں شامل تھیں۔ متحدہ قومی موومنٹ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہیں اور یہ طے پایا تھا کہ آئندہ کوئی جماعت ایم کیو ایم سے رابطہ رکھے گی نہ ہی اسے حکومت میں شامل کرے گی لیکن آل پارٹیز کانفرنس کے ڈیکلریشن کی موجودہ حکومت نے خلاف ورزی کی اور ایم کیو ایم ڈکٹیٹر مشرف کے دور کی طرح آج بھی حکومت کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان جماعتوں کی ذمہ داری تھی کہ 12 مئی 2007ءکے واقعہ کی تحقیقات کروائیں اور ایم کیو ایم پر مقدمہ چلوائیں چونکہ ایسا نہیں کیا گیا اب ایم کیو ایم کراچی کی حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ہے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی کا لینڈ مافیا‘ اسلحہ اور منشیات فروش مافیا بھی کراچی کی ٹارگٹ کلنگ میں شامل ہے جبکہ پیپلز پارٹی کی حکومت بھی اس کھیل میں شامل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی منشا کے مطابق حل کرنا پاکستان‘ بھارت سمیت جنوبی ایشیا کے امن کے لئے ضروری ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے ذوالفقار علی بھٹو کا کیس ری اوپن کرنے کی بات کر کے نیا پنڈورا باکس کھولنے کی طرف قدم اٹھایا ہے حالانکہ بھٹو کی سپریم کورٹ میں اپیل تین کے مقابلے میں چار ججوں نے مسترد کی تھی جس پر نظرثانی کی اپیل سپریم کورٹ کے سات ججوں نے مسترد کی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بعد پیپلز پارٹی کی سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی بیوی بیگم امیر بھٹو نے اس وقت کے صدر مملکت سے رحم کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ بھٹو کیس کا قانونی عمل مکمل ہو چکا ہے قانونی طور پر اسے کھولنے کا کوئی راستہ نہیں اور اگر اسے ری اوپن کیا گیا تو پھر بھٹو کی زندگی میں کئے گئے اُن کے فیصلے جنرل سکندر مرزا سے جنرل یحیٰی خان کی حکومتوں میں شامل رہنے کا معاملہ‘ مشرقی پاکستان میں فوجی کارروائی کی حمایت جس کے نتیجے میں ملک دولخت ہوا لوگ اُن پر بھی زبانیں کھولیں گے اور پیپلز پارٹی آج بھٹو کو کیش کروا رہی ہے۔ کلی الٹی آنتیں اس کے گلے پڑ جائیں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ پیپلز پارٹی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی موت کی تحقیقات کروا رہی ہے اور نہ ہی مقدمہ درج کر رہی ہے بہتر ہے جو چیز کرنے والی ہے اسے کریں۔