”مہاراشٹر میں مسلم کش فسادات سے بھارت کا مکروہ چہرہ پھر بے نقاب ہو گیا“


لاہور (خصوصی نامہ نگار) دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی قائدین نے بھارتی ریاست مہاراشٹر میں ہندو انتہا پسندوں کی طرف سے پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سیریز جیتنے پر شروع ہونے والے بدترین فسادات کے دوران 6 مسلمان شہید، 2 سو سے زائد زخمی کرنے اور مسلمانوں کی پوری بستی راکھ کا ڈھیر بنانے کے افسوسناک سانحہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے سیریز ہارنے پر شروع ہونے والے فسادات بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے اور امن کی آشا کا ایجنڈا پروان چڑھانے کی کوششیں کرنے والوں کے منہ پربدترین طمانچہ ہے۔ ہندوﺅں کو مسلمانوں کی خوشی کبھی برداشت نہیں ہوتی۔ مہاراشٹر میں مسلم کش فسادات سے دہشت گرد بھارت کا مکروہ چہرہ ایک بار پھر کھل کر دنیا کے سامنے بے نقاب ہو گیا ہے۔ حکمرانوں کو اس پر کسی صورت خاموش نہیں رہنا چاہئے بلکہ بھارتی دہشت گردی کو دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا چاہئے۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہے اور دشمن ہی رہے گا۔ وہ مسلمانوں کا کبھی دوست نہیں ہو سکتا۔ ان خیالات کا اظہار دفاع پاکستان کونسل کے مرکزی رہنما اور امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید، منور حسن، صاحبزادہ ابوالخیر زبیر، رشید احمد، اعجاز الحق، مولانا فضل الرحمن خلیل، پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، حافظ سیف اللہ منصور و دیگر نے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ حافظ محمد سعید نے کہا کہ پاکستان لاکھوں شہداءکی قربانیاں پیش کر کے کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا ملک ہے۔ بھارت نے پاکستان کے وجود کو کبھی دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ ہمیشہ پاکستان کو نقصان پہنچانے اور مسلمانوں کی نسل کشی کی کوششوں میں مصروف رہتا ہے۔ پاکستانی حکمران امریکہ کی خوشنودی کیلئے اسے پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر تلے ہوئے ہیں۔ سید منور حسن نے کہا ہے کہ ہندو انتہا پسندوں کے مسلمانوں کے گھروں پر حملے بھارت کا کلچر ہیں۔ کرکٹ میں شکست کے بعد وہ پاکستان سے بات نہیں کر سکتے تھے اس لئے وہاں مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں۔ صاحبزادہ ابوالخیر محمد زبیر نے کہا کہ ہندو انتہا پسندوںکے مسلمانوں پر حملوں سے ہندوستان کا چہرہ سامنے آ گیا ہے، مسلمانوں پر حملے قابل مذمت ہیں۔ شیخ رشید احمد نے کہا کہ کرکٹ سیریز جیتنے کے بعد بھارتی ریاست مہاراشٹر میں مسلمانوں کے گھروں پر ہندو انتہا پسندوں کے حملے افسوسناک واقعہ ہے۔ اعجاز الحق نے کہا کہ مہاراشٹر میں ہندوﺅں کے حملے اور مسلمانوں کی بستی کو جلائے جانے کے واقعات ریاستی دہشت گردی ہے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل، حافظ عبدالرحمن مکی، مولانا امیر حمزہ، حافظ عبدالغفار روپڑی، حافظ سیف اللہ منصور و دیگر نے کہا کہ ہندو مسلمانوں کا کبھی دوست نہیں ہو سکتا، امن کی آشا چلانے والے غور کریں ہندوﺅں کو مسلمانوں کی خوشی راس نہیں آئی۔