کالا باغ ڈیم، ماروی میمن سفارشات کی روشنی میں سوالات کا جواب مانگ رہی ہیں


کراچی (سالک مجید / وقائع نگار) مسلم لیگ (ن) کی سرگرم رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی ماروی میمن کالا باغ ڈیم کی حمایت کرنے والے تکنیکی ماہرین اور سیاستدانوں سے سات سال قبل بننے والی تکنیکی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں اہم تکنیکی سوالات کا جواب مانگ رہی ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے فیصلہ آنے کے باوجود اس بات پر اصرار کرتی ہیں کہ کالا باغ ڈیم صرف سیاسی نہیں بلکہ تکنیکی لحاظ سے بھی قابل عمل منصوبہ نہیں ہے۔ کالا باغ ڈیم کے حوالے سے ماروی میمن کی میڈیا سے ہونے والی تازہ بات چیت ان کے انٹرویوز‘ بیانات اور جون 2010ءمیں اس وقت کے وزیراعظم کو لکھے گئے خط کا تفصیلی جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ماروی میمن نے جن تکنیکی پہلوﺅں کی نشاندہی کی ہے ان کا سیر حاصل جواب سامنے آنا چاہئے۔ ماروی میمن کا بنیادی اعتراض ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کے لئے واپڈا کی فزیبلٹی نہ صرف بہت پرانی اور فرسودہ ہو چکی ہے بلکہ موجودہ حالات سے مطابقت بھی نہیں رکھتی۔ یہ فزیبلٹی 1984-88ءکے دوران تیار کی گئی تھی۔ موجودہ لاگت کا تخمینہ کئی گناہ بڑھ چکا ہے اور نئی فزیبلٹی سٹڈی کی ضرورت ہے۔ مشرف دور میں اے این جی عباسی کی سربراہی میں ٹیکنیکل کمیٹی اور ماروی میمن کے والد نثار میمن کی سربراہی میں پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی ماروی میمن کے بقول دونوں کمیٹیوں کی سفارشات پر پارلیمنٹ میں سیر حاصل بحث ہونی چاہئے۔ ماروی میمن نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ 2013ءمیں سٹیل‘ سیمنٹ‘ تیل کی قیمتیں اور لیبر کئی گناہ بڑھ چکی ہے جبکہ ری اسٹیلمنٹ کی لاگت بھی کئی گناہ زیادہ آئے گی۔ ماروی میمن کھل کر کہتی ہیں کہ میں کالا باغ ڈیم کی حامی نہیں ہوں۔ ڈیم ملک کی بقا اور یکجہتی کے لئے بننے چاہئیں کسی ایک علاقے کو کاشت کے قابل بناکر باقی علاقوں کو بنجر نہیں بنایا جا سکتا۔