ڈرون حملوں کے نتائج بغاوت کی صورت نکل رہے ہیں : سابق امریکی عہدیدار


واشنگٹن (آن لائن) امریکی سابق عہدیداروں اور اوبامہ کے انسداد دہشت گردی کے مشیر نے پاکستان اور یمن میں امریکہ کے ڈرون حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں سے واشنگٹن مخالف جذبات کو اکسایا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق مائیکل بوائلر نے اپنی ایک تحریر میں کہا ہے کہ صدر اوبامہ نے ڈرون حملوں کے حوالے سے سابق انتظامیہ کی پالیسی کو جاری رکھ کر انتخابات کے دوران قانون کی حکمرانی کا احترام کرنے بارے اپنے وعدے سے انحراف کیا ہے۔ اوباما کے ان اقدامات کا نشانہ عام شہری بن رہے ہیں اور اس کے نتائج امریکہ کے خلاف بغاوت کے جذبات اکسانے کی صورت میں نکل رہے ہیں۔ دریں اثناءسابق فوجی جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے بھی امریکی ڈرون حملوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ڈرون حملوں میں عام شہریوں کی ہلاکت دنیا بھر میں امریکہ شہریوں کے خلاف بغاوت کو ہوا دے رہی ہے۔ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے انکشاف کیا ہے کہ صدر بارک اوباما کی پہلی مدت صدارت کے پہلے برس کے دوران افغان جنگ کی پالیسی کے حوالے سے وائٹ ہاو¿س اور پینٹاگون کے مابین بداعتمادی کی فضا موجود رہی۔ ریٹائرڈ جنرل اسٹینلے میک کرسٹل نے یہ انکشاف ”مائی شیئر آف دی ٹاسک“ نامی کتاب میں کیا ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق بداعتمادی کی یہی فضا آخرکار جنرل میک کرسٹل کے استعفے کی ایک وجہ بنی۔