فاٹا اور خیبر پی کے میں امن لشکروں سے مسلح گارڈز کی واپسی شروع


پشاور (بی بی سی اردو) پاکستان کے قبائلی علاقوں اور خیبر پی کے کے بعض شہری علاقوں میں قائم امن لشکروں کا کردار اب تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کی ابتداءپشاور کے مضافات میں بڈھ بیر کے علاقے سے کر دی گئی ہے۔ بڈھ بیر امن لشکر کے سربراہ مکمل شاہ کا کہنا ہے کہ ان سے مسلح گارڈز واپس لے لئے گئے ہیں لیکن پولیس حکام کے مطابق انہیں غیرمسلح نہیں کیا گیا بلکہ ضرورت کے مطابق لشکر کے کردار میں تبدیلی لائی گئی ہے۔ ہمیں معلوم نہیں ایسا کیوں کیا گیا ہے؟ ہمیں بے یارومددگار چھوڑ دیا گیا ہے۔ سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس پشاور عمران شاہد کے مطابق امن لشکروں کی اپنی اہمیت ہے اور انہوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں جس سے وہ انکار نہیں کرتے۔ انہوں نے بی بی سی کو بتایا کہ اب ضرورت کے مطابق ان کے کردار میں تبدیلی لائی گئی ہے اور اب یہ لشکر انہیں شدت پسندوں کی موجودگی کی اطلاع دیں گے اور دیگر کاموں میں حکومت اور فورسز کی مدد کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ ایسا نہیں ہے کہ ان لشکروں کو غیرمسلح کیا جا رہا ہے۔