شاہ رخ کے بھائی شہزاد جتوئی کو ہراساں اور گرفتار نہ کیا جائے: سندھ ہائیکورٹ


کراچی (وقائع نگار) سندھ ہائی کورٹ نے شاہ زیب قتل کیس کے مرکزی ملزم شاہ رخ جتوئی کے بھائی شہزاد جتوئی کو گرفتار کرنے اور ہراساں کرنے سے پولیس کو روک دیا ہے۔ شہزاد جتوئی نے اپنے وکیل کے ذریعے ہائیکورٹ میں دائر کردہ درخواست میں م¶قف اختیار کیا کہ شاہ زیب قتل کیس سے اس کا کوئی واسطہ نہیں ہے لیکن پولیس نے عدالتی احکامات کی غلط تشریح کرتے ہوئے میرے گھر پر بھی دھاوا بول دیا اور میرے گھر کو سیل کر دیا ہے اور مسلسل ہراساں کیا جا رہا ہے، مجھے انصاف اور تحفظ فراہم کیا جائے اور پولیس کو ہراساں کرنے سے روکا جائے۔ درخواست گذار کے وکیل جی این قریشی ایڈووکیٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ میرے م¶کل کو پولیس خواہ مخواہ ہراساں کر رہی ہے اور پولیس نے عدالتی احکامات کی غلط تشریح کرتے ہوئے من مانی شروع کر رکھی ہے۔ پولیس پراسیکیوشن نہیں بلکہ ہرسیکیوشن کر رہی ہے، ہماری چیف جسٹس پاکستان سے درخواست ہے کہ پولیس کی طرف سے عدالتی احکامات کی غلط تشریح کا نوٹس لیا جائے۔ عدالت نے درخواست پر ہوم سیکرٹری سندھ اور آئی جی سندھ پولیس کو نوٹس جاری کر دیا ہے۔