سندھ میں خسرہ سے مزید 5 بچے جاںبحق، ننکانہ کی متاثرہ بحی ہسپتال داخل


ننکانہ + اسلام آباد (نامہ نگار + نوائے وقت رپورٹ) صحت کے محکموں کا مشترکہ اجلاس ہوا جس میں ملک کے تمام متاثرہ علاقوں میں خسرہ کے خلاف مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا، اس مقصد کے لئے وزارت صحت نے مزید عملہ بھرتی کرنے کی سفارش کی ہے۔ اسلام آباد سمیت ملک بھر میں خسرے کی وبا پھوٹنے کی تحقیق کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ ضلعی انتظامیہ اور ای ڈی اے کے محکمہ صحت نے 1984ءسے ملازمین بھرتی نہیں کئے۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 39 روز میں خسرے کے 34 کیس سامنے آئے۔ ادھر ننکانہ صاحب میں بھی خسرہ کی وبا پہنچ گئی۔ ایک بچی کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں داخل کرایا گیا ہے۔ خسرہ کی تشخیص ساڑھے تین سالہ بچی زارا دختر مبارک علی سکنہ کینیڈا کالونی کے نام سے ہوئی ہے۔ ای ڈی او ہیلتھ ڈاکٹر مشتاق احمد شاد نے محکمہ صحت کی ایک ٹیم کو کینیڈا کالونی میں خسرہ کے متعلقہ سروے کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ سندھ کے علاقوں گھوٹکی میں 2، ڈہرکی اور صالح پٹ میں خسرے سے مزید 3 بچے چل بسے۔ عالمی ادارہ صحت نے پاکستان میں خسرے کی وبا پر رپورٹ میں کہا ہے کہ 2012ءمیں 14 ہزار 800 بچے خسرہ سے متاثر جبکہ 304 بچے جاں بحق ہوئے، سندھ میں 210 جاں بحق اور 7200 متاثر، خیبر پی کے میں 3500، بلوچستان میں 1800، پنجاب 1300، اسلام آباد میں 57، بچے خسرے کا شکار ہوئے۔ فاٹا 550، کشمیر 265 اور گلگت بلتستان میں 50 بچے متاثر ہوئے۔ خسرے سے بلوچستان میں 26، خیبر پی کے میں 38 اور پنجاب میں ایک بچہ جاں بحق ہوا۔