حکومت انہیں سبسڈی دے رہی ہے جنہیں ضرورت نہیں: جسٹس عظمت سعید


اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے گن اینڈ کنٹری کلب کیس کی سماعت آج بدھ تک ملتوی کر دی جبکہ دوران سماعت چیف جسٹس نے کہا ہے کہ بادی النظر میں کلب کی کوئی قانونی حیثیت نہیں، قرارداد کوئی قانون نہیں ہوتا، یہ سپورٹس بورڈ یا سی ڈی اے کے زیر انتظام ہی چل سکتا ہے۔ جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ اراضی صدر یا وزیراعظم کی ملکیت نہیں بلکہ ریاست کی ہے، یہ کبھی نہیں سنا حکومت امراءکے لئے سبسڈی دے، یہ تو غریبوں کے لئے ہوتی ہے مگر حکومت ان کو سبسڈی دے رہی ہے جن کو ضرورت نہیں اور غریبوں کے لئے کچھ نہیں۔ اتنی اہم ضرورت تھی تو 72 ایکڑ اراضی مارکیٹ ریٹ پر خریدنی چاہئے تھی۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کلب کون چلا رہا ہے تو عدالت کو بتایا گیا کہ اس کا ایڈمنسٹریٹو فیصل سخی بٹ ہے، چیف جسٹس نے دوبارہ پوچھا کہ یہ فیصل سخی بٹ کون ہے اور کیسے کلب چلا رہا ہے، یہ اراضی تو پبلک پراپرٹی ہے، عدالت کو راجہ ارشاد نے بتایا کہ ا ن کی نامزدگی صدر نے کی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کلب کی ممبر شپ فیس کیا ہے تو بتایا گیا کہ چھ لاکھ روپے ہے اور کلب کے 495 ممبران ہیں جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کلب سپورٹس سے متعلق ہے وہ کون سا بچہ ہو گا جہ یہاں چھ لاکھ فیس دے کر کرکٹ کھیلے گا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کلب کس قانون کے تحت چلایا جاتا ہے اور اس کی انتظامیہ میں کون کون شامل ہے تو راجہ ارشاد نے بتایا کہ کلب وزارت کھیل و ثقافت کی ایک قرارداد کے تحت چلایا جاتا ہے اور یہ حکومت کی ملکیت ہے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ایڈمنسٹریٹو فیصل سخی بٹ کا عہدہ اعزازی ہے اور وہ کوئی تنخواہ نہیں لیتے جبکہ بورڈ آف گورنر کے بھی ممبران میں محسن جمیل بیگ، جنرل ضرار عظیم، میجر فرقان سلیم اور سکندر درانی شامل ہیں۔ منیر پراچہ نے عدالت کو بتایا کہ اراضی سپورٹس بورڈ کی ملکیت ہے۔