اہلسنت کی 5 تنظیموں نے طاہر القادری کے لانگ مارچ کی مخالفت کر دی


راولپنڈی (رپورٹ سلطان سکندر) اہلسنت کی پانچ تنظیموں کے عہدیداروں نے تحریک منہاج القرآن کے سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے 14 جنوری کے اسلام آباد میں ملین لانگ مارچ کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ علما اہلسنت کا اس مارچ سے کوئی تعلق نہیں‘ 23 دسمبر کو لاہور کے جلسے میں بھی پورے ملک کے جید علما مشائخ میں سے کسی نے شرکت نہیں کی اور اب بھی ایسا ہی ہو گا‘ غیر ملکی پیسے کے بل بوتے پر غیر ملکی ایجنڈے کے لئے اعلان کردہ لانگ مارچ کا پاکستان یا اسلام کے کاز سے کوئی تعلق نہیں‘ ڈاکٹر طاہرالقادری متنازعہ نظریات کی وجہ سے علما اہلسنت ان کے حق میں نہیں ہیں‘ شباب اسلامی کے صدر مفتی محمد حنیف قریشی‘ سنی تحریک کے ضلعی صدر علامہ طاہر اقبال چشتی‘ جماعت اہلسنت پاکستان کے ڈویژنل جنرل سیکرٹری صاحبزادہ محمد عثمان غنی‘ جے یو پی (نورانی) کے ضلعی صدر حافظ محمد حسین اور انجمن نوجوانان اسلام کے صوبائی سیکرٹری اطلاعات حافظ طاہر اقبال کا کہنا تھا کہ وزیر داخلہ رحمن ملک کی طاہرالقادری سے ملاقات اور لانگ مارچ کو سکیورٹی اور محفوظ راستہ فراہم کے اعلان سے پیپلز پارٹی کی وفاقی حکومت اور طاہرالقادری کی نورا کشتی بے نقاب ہو گئی ہے۔ حکومت اتحاد میں شامل ایم کیو ایم اور مسلم لیگ (ق) کی حمایت بھی اس بات کا ثبوت ہے یہ سارا ڈرامہ نوازشریف کا راستہ روکنے اور آئین سے ماورا نگران حکومت کے قیام کے لئے رچایا جا رہا ہے۔