اداروں میں بے قاعدگیوں پر عدالت ضرور مداخلت کرے گی : جسٹس جواد ایس خواجہ


اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے وفاقی ملازمین کے جبری تبادلوں کے خلاف مقدمہ کی سماعت کے دوران کمشنر اسلام آباد طارق پیزادہ کو جاری کردہ نوٹس خارج کرتے ہوئے مزید سماعت غیر معینہ مدت تک کے لئے ملتوی کر دی ہے جبکہ ڈاکٹر شفیع الرحمان کے تبادلہ پر اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو نوٹس جاری کر دیئے گئے ہیں ۔ جسٹس جواد ایس خواجہ اور جسٹس خلجی عارف حسین پر مشتمل دو رکنی بینچ نے گزشتہ روز ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی ۔ اس موقع پر جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ عدالتی احکامات پر ان کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہئے ۔ اداروں میں بے قاعدگیوں پر عدالت ضرور مداخلت کرے گی، جہاں شفافیت ہو گی مداخلت نہیں ہو گی ۔ یہاں پر روایت ہے کہ الٹی گنگا بہے گی ۔ اس موقع پر کمشنر اسلام آباد طارق پیزادہ نے عدالت پیش ہو کر موقف اختیار کیا کہ عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے ۔ رابعہ اورنگزیب کے تبادلہ کے احکامات 17 اگست 2012 ءکے ہیں اور انہیں غلطی کرنے پر تبدیل کیا گیا۔ جسٹس جواد خواجہ کا کہنا تھا کہ عدالت کو تشویش ہے کہ احکامات پر ان کی روح کے مطابق عملدرآمد نہیں کیا جاتا ۔ شاید حکام نے انیتا تراب کیس کا فیصلہ پوری طرح نہیں پڑھا ۔ عدالت نے تبدیل کئے گئے ایک اور افسر ڈاکٹر خرم رشید کے حوالے سے استفسار کیا تو ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ خرم رشید کا تبادلہ تین سالہ مدت پوری ہونے کے بعد کیا گیا جو قانون کے مطابق ہے ۔ جس پر عدالت نے متعلقہ حکام سے خرم رشید کی فائل طلب کی تو انہوں نے مہلت مانگ لی۔ جس پر عدالت نے کہا کہ فائل دکھائی جائے اور ثابت کیا جائے کہ ان کا تبادلہ اختیارات کے درست استعمال پر ہوا۔ جسٹس جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ نوکری کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ ڈیکورم اور ڈسپلن رہنا چاہئے ۔ اسٹیبلشمنٹ نے طے کر لیا ہے کہ یہاں الٹی گنگا بہے گی ۔ کیا افسران کو عدالت بتائے گی کہ قواعد پر عمل کیسے کرنا ہے ۔ بعدازاں عدالت نے مزید سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے ان افسران کا تبادلہ کئے جانے کے حوالے سے خبر پر ازخود نوٹس لیا تھا۔