لاپتہ افراد سے متعلق کمشن کو کالعدم قرار دیا جائے، فرحت اﷲ بابر

اسلام آباد (خبر نگار)سینٹ کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں زبردستی غائب کئے گئے افراد کے بارے بحث میں حصہ لیتے ہوئے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے مطالبہ کیا ہے کہ زبردستی غائب کئے جانے والے افراد کے موجودہ کمشن کو کالعدم قرار دیا جائے اور ایک نیا کمشن بنایا جائے جس کے اراکین تحقیقات کے ماہر ہوں اور اس کمیٹی کی رپورٹ کو عوام کے سامنے لانا ضروری قرار دیا جائے۔ اجلاس کی صدارت سینیٹر نسرین جلیل نے کی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ زبردستی غائب کئے جانے کا عمل بلاروک ٹوک اس لئے جاری ہے کہ کمیشن نے نہ تو مغویوں کے بیانات کی روشنی میں اغوا کنندگان کا تعین کیا اور نہ ہی کوئی ایف آئی آر درج کی۔ جو کمیشن بنایا گیا تھا وہ قانون کے تحت اس بات کا مجاز تھا کہ وہ یہ تمام کارروائی کرتا لیکن کمیشن ناکام ہوگیا۔ کمیشن یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے 2000 سے زیادہ مغویوں کو گزشتہ چھ سال میں بازیاب کروایا ہے لیکن نہ تو کسی قسم کی تحقیقات ہوئی اور نہ ہی کسی شخص یا ادارے جو ان اغوا کے کیسوں میں ملوث تھے کے خلاف کوئی ایف آئی آر درج ہوئی ہے۔ انہوں نے سینیٹ کی کمیٹی کو تجویز پیش کی کہ وہ بازیاب کئے جانے والے مغویوں کو بلا کر ان کی بات سنیں اور پھر ان کی بات کو آگے بڑھایا جائے۔ یہ تجویز کمیٹی نے منظور کر لی۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ قانون میں ترمیم کرکے کمیشن کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ حکومت کی منظوری کے بغیر ہی براہ راست اپنی رپورٹ کو منظر عام پر لائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں موجود حراستی مراکز پاکستانی گوانتاناموبے بن چکے ہیں جہاں سے کسی قسم کی معلومات باہر نہیں آتی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست ادارے جیسا کہ سپریم کورٹ، پارلیمنٹ، نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق اور زبردستی اغوا کئے جانے والے افراد کے بارے کمیشن ، غائب کئے جانے والے افراد کا مسئلہ حل کرنے سے معذور ہیں۔ اس کا یہ مطلب صاف ہے کہ کچھ نادیدہ قوتیں ان تمام اداروں سے زیادہ طاقتور ہیں۔
فرحت اﷲ بابر