نیب لانڈری ہے نہ پلی بارگین کا مطلب معافی ہے: ڈی جی لاہور

لاہور( سٹاف رپورٹر ) ڈی جی نیب لاہور شہزاد سلیم نے کہاہے کہ نیب کو بہت سی رکاوٹوں کا سامنا ہے اوران رکاوٹوں کے باوجود نیب کا ملزمان کو سزا دلوانے کا تناسب76فیصدہے جبکہ دیگر انسداد بدعنوانی اداروں میں یہ تناسب 10فیصد سے بھی کم ہے۔ ان باتوں کا اظہار انہوں نے انسداد بدعنوانی کے عالمی دن کے موقع پر الحمراءآرٹس کونسل لاہور میں ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے کیا جس میں لاہور ہائیکورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں اللہ نواز نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی جبکہ دیگر شرکاءمیں صحافی سہیل وڑائچ ، کالم نگار اکرام سہگل اور امجد اسلام امجدشامل تھے ۔ ڈائریکٹر جنرل نیب لاہور شہزاد سلیم نے پلی بارگین پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ نیب لانڈری نہیں اور نہ ہی پلی بارگین کا مطلب معافی ہے، پلی بارگین میں عدالتوں کو ثبوتوں کے بغیر مطمئن نہیں کیا جا سکتا۔جبکہ نیب نے اپنے قیام سے اب تک گزشتہ18سال میں کرپٹ عناصر سے 290ارب روپے وصول کر کے قومی خزانے میں جمع کروا چکا ہے۔انہوں نے کہاکہ سول سوسائٹی اور میڈیا ملک کے اہم ستون ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ بے روزگاری ہے جسکی وجہ سے عوام الناس جرائم کرنے پر مجبور ہیں اور معاشرتی برائیاں نمودار ہو رہی ہیں۔میڈیا کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیب کے بارے میں رائے کو صحیح طور پر پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے نیب ایک حکومتی ادارہ ہے اور حکومتی مشینری کا اہم ستون ہونے کے ناطے انسداد بدعنوانی کی تحاریک کو کامیاب کرنے میں عوام اور میڈیا کا کر دار نہایت اہم ہے ۔
ڈی جی نیب لاہور



دیگر خبریں

پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

16 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

15 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

14 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

13 دسمبر 2017