پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آج پالیسی نوعیت کا را¶نڈ ہو گا

اسلام آباد (عترت جعفری) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ”پوسٹ پروگرام“ جائزہ کے تحت آج پالیسی نوعیت کا را¶نڈ ہو گا۔ گورنر سٹیٹ بینک اور ملک کے دوسرے معاشی منیجرز‘ آئی ایم ایف کی ٹیم کو قرضوں کی صورتحال‘ زرمبادلہ‘ ادائیگی کے توازن‘ درآمد و برآمد اور دوسرے معاشی ایشوز کے بارے میں حکومتی حکمت عملی کے بارے میں بریفنگ دیں گے جس کے بعد آئی ایم ایف کا ملکی معیشت کے بارے میں بیان سامنے آنے کی توقع ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ بعدازاں عالمی مالیاتی ادارے کی ٹیم لاہور جائے گی اور وزیراعلیٰ پنجاب کے ساتھ ملاقات کے علاوہ تجارتی تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان بات چیت کے اب تک کے ادوار میں ”ادائیگی کا توازن“ عالمی مالیاتی ادارے کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ آئی ایم ایف کے 6.1 بلین ڈالر کے قرضے کی ادائیگی اور سی پیک کے تحت پاکستان کے ذمہ قرضوں کے کچھ حصہ کی ادائیگی آئندہ ڈیڑھ سال سے شروع ہونا ہے جبکہ آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق آئندہ سات سال میں سی پیک قرضوں کی واپسی کی مد 3.5 سے 4.5 بلین ڈالر سالانہ تک چلی جائے گی جس سے پاکستان کی قرضے واپس کرنے کی صلاحیت متاثر ہو گی کیونکہ برآمدات میں اضافہ کے آثار نظر نہیں آ رہے جبکہ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ 2020 کے بعد سی پیک قرضوں کی ادائیگی صرف 2 ارب ڈالر سالانہ تک جائے گی جس کو برداشت کیا جا سکتا ہے۔
آئی ایم ایف