پی آئی اے طیارہ کی فروخت پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے: حکومت

اسلام آباد (این این آئی+ سٹاف رپورٹر+ صباح نیوز) قومی اسمبلی کو بتایا گیا ہے کہ پی آئی اے طیارہ کی فروخت پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے۔ وقفہ سوالات کے دوران شازیہ مری‘ ایس اے اقبال قادری‘ شیریں مزاری‘ نوید قمر کے سوال کے جواب میں پارلیمانی سیکرٹری راجہ جاوید اخلاص نے کہا کہ پی آئی اے طیارہ کی فروخت پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے، 2016ءمیں عمر پوری ہونے کے بعد اس طیارے کو گراﺅنڈ کردیا گیا، سینٹ کی خصوصی کمیٹی سلیم مانڈوی والا کی قیادت میں اس کی تحقیقات کر رہی ہے۔ ذمہ داروں کے نام ای سی ایل میں ڈالے گئے لیکن بعد میں وزارت داخلہ نے انہیں ایک بار ایک ماہ کےلئے جرمنی جانے کی اجازت دی‘ یہ قانون کی خلاف ورزی ہے اس کی بھی تحقیقات کر رہے ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی نے ایوان کے آئندہ ہفتہ میں اس حوالے سے تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی۔ ایوان کو بتایا گیا کہ ایئر بس اے 310 کو سابق سی ای او برنڈ ہلڈنبرا کی منظوری سے لیبرگ میوزیم جرمنی کو 47500 یورو میں فروخت کیا گیا ادارہ جاتی تفتیش میں سابق قائم مقام چیف ایگزیکٹو آفیسر برنڈ ہلڈنبرا کو خلاف ورزیوں کا قصوروار قرار دیا گیا جس کے بعد ان کو عہدے سے برطرف کردیا گیا۔ اجلاس کے دوران وزیر مملکت طلال چوہدری نے کہا کہ وفاقی وزیر ریلوے ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لئے موثر انداز میں کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزارت ریلوے کی اراضی پر قبضہ مافیا کے خلاف اقدامات کئے جارہے ہیں کیونکہ وزارت ریلوے اس حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ پارلیمانی سیکرٹری مائزہ حمید نے کہا کہ پرائم منسٹر ریفارمز ایجوکیشن پروگرام کے تحت وفاقی دارالحکومت کے سکولوں میں داخلوں کےلئے کوئی کوٹہ مختص نہیں بلکہ میرٹ پر داخلے دیئے جاتے ہیں تاہم اسلام آباد کے رہائشیوں کے بچوں کو ترجیحی بنیادوں پر داخلہ دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرائم منسٹر ریفارمز ایجوکیشن پروگرام کے تحت سکولوں کو بسوں کی فراہمی سمیت دیگر جدید سہولیات کی فراہمی کے لئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس کے دور ان دہشتگردی کے واقعات اور کشمیری شہداءسمیت وفاقی وزیر برجیس طاہر کی ہمشیرہ کے ایصال ثواب کےلئے فاتحہ خوانی کرائی گئی۔ رواں سیشن کے لئے پینل آف چیئرپرسن کے ناموں کا اعلان کردیا گیا۔ چوہدری محمود بشیر ورک‘ طاہرہ اورنگزیب‘ شازیہ مری‘ ڈاکٹر عمران خٹک‘ ڈاکٹر خواجہ سہیل منصور اور شاہدہ اختر علی شامل ہیں۔ سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کس طرح پی آئی اے کے غیر ملکی قائم مقام چیف ایگزیکٹو نے قومی ائر لائن کا طیارہ کسی کو کانوں کان خبر ہوئے بغیر جرمنی میںفروخت کر دیا اور پھر پاکستان سے باہر نکلنے میں بھی کامیاب ہو گیا۔
قومی اسمبلی