کوئی فیصلہ یا فتویٰ نواز شریف کو عوام کے دلوں سے نہیں نکال سکتا: سعد رفیق

گوجرانوالہ + گجرات (نمائندہ خصوصی+ نامہ نگار) وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کسی کو چیلنج نہیں کررہی اور نہ ہی کسی کو دبا¶ میں لانا چاہتے ہیں، کوئی فیصلہ یا فتوی نوازشریف کی محبت کو عوام کے دلوں سے نکال سکتا۔ منتخب وزرائے اعظم کو توہین آمیز راستے سے نکالنے کا عمل اب رکنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گوجرانوالہ کے مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ اس موقع پر سینئر رہنما مسلم لیگ (ن) غلام دستگیر خان وزیر مملکت قانون عثمان ابراہیم‘ صوبائی وزیر منشاءاللہ بٹ، رانا مشہود، ممبران قومی وصوبائی اسمبلی محمود بشیر ورک، شازیہ سہیل، عبدالر¶ف مغل، توفیق بٹ، اقبال گجر، نواز چوہان چیئرمین ضلع کونسل مظہر قیوم ناہرا، میئر سٹی میونسپل کارپوریشن شیخ ثروت اکرام، ڈپٹی میئرز سلمان خالد پومی بٹ، رانا مقصود سمیت دیگر بھی موجود تھے۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) کے کروڑوں ووٹر نوازشریف کی نااہلی کو قبول نہیں کرتے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے پہلے سال میں ہی سازشوں کا آغاز ہو چکا تھا دھاندلی اور پانامہ کا ڈرامہ رچایا گیا، لاک ڈا¶ن، قبریں کھودنے اور ریاستی عمارتوں پر حملہ آور ہونے کو جمہوریت کہنے والوں پر عوامی قائد میاں نواز شریف کے جی ٹی رو ڈ سے جانے کے اعلان پر کپکپی طاری ہو گئی ہے لیکن عوام کی عدالت ضرور لگے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم کسی کو چیلنج کر رہے ہیں اور نہ دبا¶ میں لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان طویل لڑائی کے بعد میثاق جمہوریت معاہدہ ہوا جسے تیسرے کھلاڑی نے سبوتاژکر دیا ہے مکافات عمل کا آغاز ہو چکا ہے۔ عمران خان نے اس کھیل میں ایک مہرے کا کردار ادا کیا ہے خان صاحب اور ان کے ہمنوا سیاست میں نفرت کے بیج بو رہے ہیں عدالتی فیصلے پر بغلیں بجانیوالوں کی جب باری آئے گی تو ہم خوشیاں نہیں منائیں گے۔ صادق اور امین کا سلسلہ چل نکلا ہے اب با اختیار اور طا قتور لوگوں کو بھی اس چھلنی سے گزرنا چاہئے۔ میاں نواز شریف 9 اگست کی صبح بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور کیلئے روانہ ہوں گے جن کا ہر شہر میں کارکن فقید المثال استقبال کریں گے۔ علاوہ ازیں میاں نواز شریف کی گوجرانوالہ آمد کے پیش نظر تیاریوں کے سلسلہ میں وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی زیر صدارت نجی ہوٹل میں اجلاس ہوا۔ اجلاس میں متفقہ طور پر 6رکنی کوآرڈینیشن کمیٹی بنا دی گئی۔ کمیٹی عبدالرو¿ف مغل ایم پی اے، توفیق بٹ ایم پی اے، میئر گوجرانوالہ شیخ ثروت اکرام، سلمان خالد پومی بٹ ڈپٹی میئر، نمائندہ عثمان ابراہیم ایم این اے اور ناصر کھوکھر پر مشتمل ہے۔ علاوہ ازیں گجرات سرکٹ ہا¶س میں گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ ملک میں جو بھی بنا ہے نواز شریف اور شہباز شریف کے ہاتھ سے بنا ہے گجرات کے پانچ سال وزیراعلیٰ رہنے والے اب تانگے کی اکیلی سواری رہ چکے ہیں وہ عوام کو حقیقت میں کچھ بھی نہیں دے سکے اقتدار کیلئے یہ سازشیں کر کے نفرت کے بیج بوتا رہا۔ مشرف کو بار بار منتخب کرنیوالے آج بتائیں مشرف کہاں گیا ہے۔ مشرف کی بغاوت نہ ہوتی تو ملک میں ایک نہیں کئی موٹروےز بن چکی ہوتیں۔ جب ملک ترقی کی پٹری پر جاتا ہے تو سازش کر کے اسکے جمہوری عمل کو روک کر ریورس گےئر لگا دیا جاتا ہے۔ ٹانگیں کھینچی جارہی ہیں اسی وجہ سے ہمارے یہ حالات ہیں نواز شریف کا بھی قصور یہی ہے کہ وہ پاکستان کی بلندیوں تک لیجانا چاہتا ہے۔ عمران پی ٹی وی پر حملہ کرے تو جائز ، شاہراہ دستور بند کر دے تو جائز، کارواں لیکر نکلے تو جائز اور ہم پر امن طریقے سے اپنا گھر جانا چاہتے ہیں تو آپ لوگوں پر کپکپی طاری ہو جاتی ہے پریشان مت ہوں ہم کسی کے خلاف نہیں ہیں قبل ازیں انہوں نے (ن) لیگی رہنماﺅں سے میاں نوازشریف کے استقبال کے سلسلہ میں میٹنگ کی اور انہیں ہدایات جاری کیں۔ دوسری طرف خواجہ سعد رفیق کی سرکٹ ہاﺅس آمد کے دوران یونیورسٹی آف گجرات کے طلباءنے شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے ہوئے وفاقی وزیر سے استفسار کیا کہ جلالپورجٹاں روڈ پر ٹریفک کئی گھنٹوں سے بند کر کے طلباءکو کیوں سزا دی جارہی ہے جس پر (ن)لیگی قیادت کے حکم کر مقامی رہنماﺅں نے طلباءکو سرکٹ ہاﺅس گیٹ کے باہر لے گئے اور اندر آنے سے روکدیا ابھی یہ معاملہ سلجھا ہی تھا کہ جلالپورجٹاں سے (ن) لیگی کونسلر نے سٹیج پر وفاقی وزیر کے پاس جانے سے روکنے پر چیخنا چلانا شروع کر دیا جس پر خواجہ سعد رفیق نے انہیں سیٹج پر بھےجنے کی ہدایت کی کونسلر نے سٹیج پر شور مچانا شروع کیا تو سعد رفیق انہیں بغل میں لیکر منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے خاموش رہنے کی تنقید کرتے رہے اور مزید بدمزگی سے دوران تقریر انہیں ساتھ کھڑا رکھا دریں اثناءگروپوں میں تقسیم ہونے کے باعث وفاقی وزیر کی آمد پر (ن) لیگی ایم پی اے ملک حنیف اعوان ، سابق ایم این اے ملک جمیل اعوان ، حاجی اورنگ زیب بٹ نے سرکٹ ہاﺅس میٹنگ میں شرکت نہ کی۔