بھارت: ایک برس میں چوتھی بار پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر منموہن کے اتحادیوں کی ”بغاوت

نئی دہلی (اے ایف پی) بھارت میں ایک سال کے دوران چوتھی مرتبہ پٹرول کی قیمتیں بڑھانے پر وزیراعظم منموہن کے اہم اتحادیوں نے ”بغاوت“ کر دی۔ بھارتی حکمران اتحاد میں شامل دوسری بڑی جماعت ترینامول کانگرس اور تیسری بڑی جماعت سدرن ڈی ایم کے نے کہا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافہ واپس نہ لیا گیا تو حکمران اتحاد سے الگ ہو جائیں گے۔ بھارتی وزیراعظم منموہن سنگھ کو جو گذشتہ روز بیرون ملک دورے سے واپس آئے تو انہیں حکمران اتحاد میں بغاوت کا سامنا کرنا پڑا۔ ترینامول کانگرس کی سربراہ مامتا بینرجی نے تیل کی قیمتوں میں اضافے پر کہا کہ ہمیں غریب عوام پر قیمتوں میں اضافے کا بوجھ قبول نہیں، ہم نے حکومت سے علیحدگی اختیار کی تو حکومت قائم نہیں رہیگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ منموہن سے ملاقات کے بعد ہی کوئی فیصلہ کرینگے۔ دوسری طرف بھارتی وزیر خزانہ پرناب مکھرجی نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ معاملہ طے پا جائے گا۔ ہم وزیراعظم سے بات کرینگے اور معاملہ حل ہو جائے گا۔ ادھر مامتا بینرجی جو مغربی بنگال کی وزیراعلیٰ بھی ہیں نے پارٹی کے پارلیمانی ارکان کے ہنگامی اجلاس کے بعد میڈیا کو بتایا کہ اگر تیل کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا تو پھر ہمیں حکومت میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ سدرن ڈی ایم کے کے ارکان پارلیمنٹ نے بھی قیمتوں میں اضافے کو غریب عوام پر بوجھ قرار دیتے ہوئے اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ واضح رہے کہ ایک روز قبل بھارت میں پٹرول کی قیمت میں فی لٹر 1.8 روپے اضافہ کر دیا گیا تھا۔ جنوری 2011 سے ابتک چوتھی بار پٹرول کی قیمت بڑھنے سے قیمت 67 روپے ہو گئی ہے۔