اپوزیشن جماعتیں دباﺅ بڑھانے میں کامیاب‘ حالات تبدیلی کی طرف بڑھنے لگے

لاہور (تجزیہ: خواجہ فرخ سعید سے) صدر آصف زرداری اور وزیراعظم یوسف گیلانی الیکشن 2013ءمیں کروانے کی بات کر رہے ہیں اور بہت ممکن ہے کہ مسلم لیگ (ن)‘ تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی و دیگر حکومت مخالف جماعتیں حکمرانوں کو 2013ءسے قبل الیکشن کروانے کے لئے مطلوبہ دباو ڈالنے میں کامیاب نہ ہو سکیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حکمران اتحاد کی مخالف جماعتیں بے پناہ دباو بڑھانے میں کامیابی حاصل کر لیں تاہم حکمران اتحاد اس دباو کو برداشت کر جائے مگر ایک بات یقینی دکھائی دیتی ہے کہ حکمران اتحاد کی مخالف سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) اور دیگر جماعتوں تحریک انصاف‘ جماعت اسلامی وغیرہ کے اس موقف سے عوام لگ بھگ متفق ہوتے دکھائی دے رہے ہیں کہ موجودہ حکمران ملک میں کرپشن کا منبع کہلا سکتے ہیں اور حالات تبدیلی کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ موجودہ حکومت کی جانب سے قومی اداروں پی آئی اے‘ ریلوے‘ نیشنل سٹیل مل سمیت دیگر کی اصلاح کرنے کی کوششیں جاری ہیں مگر عوام کو یقین ہو چلا ہے کہ اس حکومت سے اصلاح احوال کی کوئی امید نہیں رکھی جا سکتی کیونکہ حکمرانوں کی ماسوائے مال بنانے کے کسی اور طرف توجہ نہیں اور حکمران اس حکومت کو اپنے لئے آخری موقع سمجھتے ہوئے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے والوں کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ عوامی تاثر کی بنا پر 1997ءکے عام انتخابات کے نتائج کی طرح الیکشن 2013ءیا اس سے قبل ہونے والے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ووٹ بنک کے گھر میں بیٹھنے کے امکانات کے ساتھ ساتھ حکومت مخالف جماعتوں کی کامیابی کا امکان بے حد بڑھتا جا رہا ہے۔ 1997ءکے عام انتخابات سے پہلے 1993ءسے 1996ءکے دوران بے نظیر حکومت کے خلاف مسلم لیگ (ن) نے نوازشریف کی قیادت میں یہ عوامی تاثر قائم کر دیا تھا کہ ملک کی موجودہ مہنگائی‘ بےروزگاری کی ذمہ دار بے نظیر حکومت کی پالیسیاں ہیں‘ یہی وجہ ہے کہ 1995ءکی تحریک نجات میں تو عوام بہت بڑی تعداد میں سڑکوں پر نہیں آئے لیکن جب 1997ءمیں انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ (ن) اور اس کی اتحادی جماعتوں کو عوام نے اتنے ووٹ دئیے کہ نوازشریف دوتہائی اکثریت والے وزیراعظم بن گئے تھے۔ آنے والے الیکشن میں بھی پیپلز پارٹی اور ان کے اتحادیوں کا مستقبل مخدوش ہوتا جا رہا ہے۔ صدر زرداری نے اس صورتحال کا نوٹس لیتے ہوئے جمعہ کو بلاول ہاوس کراچی میں ایک اجلاس منعقد کیا جس میں اس ساری صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور طے پایا کہ آنے والے الیکشن میں صوبہ پنجاب کو ”ٹارگٹ“ کیا جائے۔ پنجاب سے انتخابات میں بہتر پوزیشن حاصل کرنے کے لئے ہی پیپلز پارٹی کی پنجاب تنظیم کو دو حصوں جنوبی پنجاب اور شمالی پنجاب میں تبدیل کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہو گا کہ اس طرح پیپلز پارٹی عوام کے مسائل حل نہ کئے جانے‘ عوام کو ریلیف نہ ملنے کے باعث اور اپوزیشن کے حکمران اتحاد کے خلاف کامیاب پراپیگنڈے کے باعث عوام میں کھوئی ہوئی اپنی مقبولیت کو کس طرح دوبارہ حاصل کر سکے گی۔