کئی شہروں سے متعدد عسکریت پسند گرفتار‘ پارلیمنٹ ہاﺅس‘ فوجی تنصیبات پر حملوں کا منصوبہ ناکام

اسلام آباد + پشاور + لاہور (نیوز ایجنسیاں + ریڈیو نیوز) انٹیلی جنس اداروں نے جی ایچ کیو حملے کے ماسٹر مائنڈ عقیل عرف عثمان سے ملنے والی اہم معلومات کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں خفیہ کارروائی کے دوران کئی اہم عسکریت پسندوں کو گرفتار کر لیا ہے جس میں بعض انتہائی مطلوب ملکی و غیر ملکی دہشت گرد بھی شامل ہیں۔ گرفتار کئے جانے والے عسکریت پسند فوجی تنصیبات‘ پارلیمنٹ ہاوس اور اہم شخصیات کو نشانہ بنانا چاہتے تھے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق عقیل عرف عثمان نے تفتیش کے دوران شدت پسندوں کے نیٹ ورک اور ملک کے مختلف حصوں میں کارروائیوں کے حوالے سے اہم معلومات مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی کو فراہم کی تھیں جس کے بعد سپیشل سروس گروپ کی ایک خصوصی ٹاسک فورس نے خفیہ آپریشن مختلف علاقوں میں شروع کئے اور جنوبی وزیرستان سے فرار ہو کر پنجاب، سندھ اور جنوبی پنجاب میں پناہ لینے کے لئے آنے والے کئی عسکریت پسندوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ ایک اہم خفیہ آپریشن پانچ دن قبل بھی سپیشل ٹاسک فورس نے کیا‘ ان میں انتہائی مطلوب افراد بھی بتائے جاتے ہیں کئی غیر ملکی بھی شامل ہیں جبکہ انٹیلی جنس اداروں نے جنوبی پنجاب کے مختلف حصوں میں بھی اسی طرح کے خفیہ آپریشنز کئے اور ان آپریشنز کے دوران کالعدم تنظیموں سمیت جنوبی و شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد کو اپنی حراست میں لیا ہوا ہے اور ان سے تفتیش کا عمل بھی جاری ہے۔ شدت پسندوں کی نقل و حرکت کو سیٹلائٹ کے ذریعے مانیٹر کیا جا رہا تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ان گرفتار شدت پسندوں میں سے بعض کو میڈیا کے سامنے لایا جائے گا تاہم اس حوالے سے تحقیقاتی ادارے تمام عمل مکمل کرنا چاہتے ہیں اور گرفتار افراد سے ان کے دیگر ساتھیوں کے بارے میں معلومات حاصل کی جارہی ہیں سکیورٹی حکام نے ان دہشت گردوں کی گرفتاری کو اہم قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس سے دہشت گردوں کی کمر ٹوٹ گئی ہے اور ان کے کئی نیٹ ورک مکمل طور پر ختم ہو گئے ہیں۔غیر ملکی مطلوب افراد کو لاہور‘ مری‘ آزاد کشمیر‘ رحیم یار خان‘ اسلام آباد‘ ڈی جی خان‘ بہاولپور اور دیگر شہروں سے گرفتار کیا گیا۔