بھارت سے مذاکرات کی بنیاد‘ کشمیر کے بارے میں اصولی موقف اور پانی

لاہور (رپورٹ سلمان غنی) پاکستان بھارت مذاکراتی عمل کیلئے پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کی مشاورت سے رہنما اصول مرتب کئے جا رہے ہیں جن کی بنیاد پاکستان کے کشمیر کے حوالے سے اصولی موقف اور پانی کو بنایا جا رہا ہے‘ مذاکرات کیلئے پس پردہ سرگرم بعض عالمی قوتوں کو باور کرا دیا گیا ہے کہ پاکستان بھارت سے دوستی کیلئے باہمی احترام کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے پر تیار ہے لیکن اس کیلئے تقسیم کے اصل منصوبے کے مطابق مسئلہ کشمیر کے حل کے ذریعے ہی دونوں ممالک میں باہمی عزت و احترام پر مبنی تعلقات قائم ہو سکتے ہیں۔ اگر بھارت پر علاقائی بالادستی کا بھوت سوار ہے اور وہ ہمسایہ ممالک کو باج گذار ریاستیں بنانا چاہتا ہے تو پھر علاقائی امن و استحکام کا خواب حقیقت نہیں بن سکے گا۔ یہ بات وزارت خارجہ کے ذمہ دار ذرائع نے نوائے وقت سے بات چیت کرتے ہوئے کی۔ ذرائع کے مطابق حکومت مذاکراتی عمل کے حوالے سے پارلیمنٹ میں موجود جماعتوں کو اعتماد میں لیتی رہے گی‘ خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کی آراءبھی وقتاً فوقتاً لی جاتی رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ بھارت مذاکرات کی بات کریگا تو پاکستان پیچھے نہیں رہے گا‘ غیر مشروط مذاکراتی عمل میں وہ اصولی موقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا‘ مذاکراتی عمل خواہ کسی بھی سطح پر ہوں گے‘ کشمیر اور پانی سے صرف نظر نہیں برتا جائیگا کیونکہ یہ زندگی موت کا مسئلہ ہے۔ ہمارے نزدیک یہ محض سرحدی تنازع یا زمین کا جھگڑا نہیں۔ سوا کروڑ کشمیری عوام کے حق خودارایت کا مسئلہ ہے۔ جس اصول پر تقسیم ہوئی یہ اس کے اطلاق اور تقسیم ہند کے نامکمل ایجنڈا کی تکمیل کا مسئلہ ہے‘ ہم سمجھتے ہیں کہ جب تک کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت کے ذریعے مستقبل کے تعین کا حق نہیں ملتا‘ پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں بہتری نہیں آسکتی۔ ذرائع کے مطابق حکومت مذکورہ موقف تفصیلی غوروخوض کے بعد اپنانے پر مجبور ہوئی‘ حکومت کو اس امر کا احساس ہے کہ ماضی میں پرویز مشرف کے دور میں اختیار کئے جانے والے پسپائی کے عمل اور قراردادوں پر لچک کی پالیسی نے پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچایا‘ بھارت نے صورتحال کا فائدہ اٹھایا اور ہم ایک ردعمل کی صورتحال کے اسیر ہو گئے۔ ماضی میں پرویز مشرف کی جانب سے کشمیر کے دس بارہ حل اور جو حل دونوں کیلئے قابل قبول نہ ہو‘ اسے ترک کر دیا جائے‘ کے موقف نے کشمیر پر ہماری یکسوئی اور عالمی محاذ پر ہمارے موقف کو متاثر کیا۔ ذرائع کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان اصل ایشو ہی جموں و کشمیر پر بھارت کے ناجائز اور محض جبر پر مبنی تسلط کا ہے۔ مسئلے کا کوئی حل عوام کی مرضی سے ان کے مستقبل کو طے کرنے کے سوا نہیں ہو سکتا۔ ذرائع کے مطابق حکومتی سطح پر جہاں دیگر معاملات پر واضح پالیسی کے تعین پر غور ہو رہا ہے‘ وہاں پہلی بار خارجہ پالیسی کو ٹھوس حقائق‘ دوسرے ممالک کے عزائم کے حقیقی ادراک اور خود اپنے مقاصد و مفادات کے تابع بنانے پر کام شروع کیا گیا ہے‘ خارجہ پالیسی خصوصاً مسئلہ کشمیر اور پاکستان بھارت مذاکراتی عمل کیلئے رہنما اصول جلد متعین کر کے سفارتی محاذ پر بھرپور مہم شروع کی جائے گی۔