کراچی میں مضبوط مافیا لوگوں کو مذہب، عقیدہ کے نام پر لڑاتا ہے: احسان وائیں

لاہور (رپورٹ:خواجہ فرخ سعید) عوامی نیشنل پارٹی کے سیکرٹری جنرل احسان وائیں نے کہا ہے کہ کالا باغ ڈیم تین صوبے بنام پنجاب بن چکا ہے، کالا باغ ڈیم بنانا ہے تو حکمران اور ٹیکنو کریٹس اتفاق رائے پیدا کرنے کیلئے میدان میں آئیں اور ان صوبوں کو سمجھائیں جو سجھتے ہیں کہ کالا باغ ڈیم بنانے میں فائدہ نہیں زیادہ نقصان ہوگا، عوامی نیشنل پارٹی نے کبھی زبان اور نسل کی بنیاد پر سیاست نہیں کی، کراچی میں ڈرگ، اسلحہ کا کاروبار کرنے والا مضبوط مافیا لوگوں کو مذہب اور عقیدہ کے نام پر لڑاتا ہے، سیاسی جماعتیں ایک دوسرے پر الزام تراشی کرکے سیاست ختم کر رہی ہیں، مافیا اور دہشت گردی ملک میں سیاست ختم کرکے فسطائی نظام قائم کرنا چاہتے ہیں، صدر زرداری کو سیلاب اور وزیراعظم برطانیہ کی پاکستان پر الزام تراشی کے باعث دورہ برطانیہ نہیں کرنا چاہئے تھا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان وقت میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عوامی نیشنل پارٹی پنجاب کے صدر ڈاکٹر ذوالفقار قریشی و دیگر عہدیداران بھی ان کے ہمراہ تھے۔ احسان وائیں نے مزید کہا کہ کالا باغ ڈیم کا ایشو بہت بعد میں سیاسی جماعتوں کا مسئلہ بنا کیونکہ کالا باغ ڈیم خالصتاً فنی معاملہ تھا۔ حکومت اور واپڈا کے ذمہ داران، ٹیکنوکریٹس اور بیوروکریٹس کی نااہلی نے اس فنی مسئلے کو سیاسی مسئلہ بنا دیا۔ انہوں نے کہا کہ واپڈا کے اعلیٰ حکام نے جب نوشہرہ اور دوسرے علاقوں میں سرخ نشان لگائے کہ یہاں تک علاقے کالا باغ ڈیم بننے سے ڈوبیں گے تو جن لوگوں کے کھیت اور گھر اس کی زد میں آرہے تھے وہ ازخود باہر آئے اور انہوں نے شور مچایا۔ اس وقت تک تربیلا ڈیم بن چکا تھا اور وہاں کے متاثرین بحالی کے کام پر مطمئن نہیں تھے۔ پھر واپڈا کے ماہرین نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی عمارت کو اتنا نیچا کردیں تو بچت ہو جائے گی۔ اگر اس بات کو پہلے ہی پیش نظر رکھا جاتا تو حالات یوں خراب نہ ہوتے۔ انہوں نے کہا کہ اے این پی ہی نہیں بلکہ دوسری تمام جماعتوں نے جن کی صوبے کی اسمبلی میں نمائندگی تھی کالا باغ ڈیم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کی، سندھ اسمبلی اور بلوچستان اسمبلی نے بھی متفقہ طور پر کالا باغ ڈیم کے خلاف قراردادیں منظور کیں۔ ان قراردادوں کی منظوری میں خود کو محب وطن کہنے والی جماعتیں مسلم لیگ، پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی، جمعیت علماءاسلام و دیگر شامل ہیں۔گورنر پنجاب سلمان تاثیر اتنے سیاسی اور پالیسی میکر نہیں کہ پیپلز پارٹی اس کے بیان سے کالا باغ ڈیم کی تعمیر پر رضامند ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خود کہتے ہیں کہ پاکستان میں 3 سال کا پانی رہ گیا ہے، بجلی نہیں میں ان سے پوچھتا ہوں کہ کالا باغ ڈیم متنازع ہوگا تو وہ باقی ڈیم کیوں نہیں بناتے۔ پنجاب حکومت دوسرے صوبوں کے مصائب حل کرنے میں مدد کرکے قومی یکجہتی کی فضا پیدا کر رہی ہے اس یکجہتی کو صوبوں میں مزید بڑھانا چاہئے۔ دہشتگردی پوے ملک کا مسئلہ ہے لیکن صوبہ خیبر پی کے اس کے خاتمے کیلئے سب سے زیادہ قربانی دے رہا ہے۔