مقبوضہ کشمیر: مظاہروں میں پہلی بار سینکڑوں خواتین کی شرکت‘ فوج پر پتھراو بھی کرتی ہیں

سرینگر (اے ایف پی) مقبوضہ کشمیر میں حالیہ مظاہروں کے دوران پہلی بار سینکڑوں خواتین بھی شریک ہو رہی ہیں اور مردوں کی طرح بھارتی افواج پر پتھراو کر کے اپنا غصہ اتار رہی ہیں۔ روز بروز ان کی تعداد بڑی رہی ہے۔ روزانہ سینکڑوں خواتین اور لڑکیاں بھی مردوں کے ساتھ مظاہروں کے لئے سڑکوں پر نکلتی ہیں اور کئی کے ہاتھوں میں چھڑیاں ہوتی ہیں اور وہ پتھراو بھی کرتی ہیں۔ مظاہرین کو پانی پلانے کا فریضہ سرانجام دے رہی ہیں۔ بھارتی لاٹھی چارج سے بھگانے والے نوجوانوں کو درست راستہ بھی بتاتی ہیں اور یہ صورتحال بھارتی فوج کے لئے بڑی پریشان کن ہے۔ اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے خاتون ٹیچر ریحانہ اشرف نے کہا کہ ہم اس پیغام کے ساتھ سڑکوں پر نکلیں ہیں کہ بچوں کو شہید کرنے سے پہلے ہمیں شہید کرو۔ انہوں نے کہا کہ ان حالات میں جب بھارتی فوج ہمارے بچوں کو شہید کر رہی ہے ہم کیسے خاموش رہیں۔ ہم پیغام دینا چاہتی ہیں کہ ہم کمزور نہیں ہیں۔ 41 سالہ محبوبہ اختر نے کہا کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ وہ ہمارے بچوں اور بھائیوں کو شہید کر رہے ہیں اور آپ کیسے امید رکھتے ہیں کہ ہم خاموش تماشائی بنی رہیں۔ 38 سالہ شمیما جاوید نے کہا کہ یہ صرف مردوں کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اکیلے ناانصافی کے ساتھ احتجاج کریں‘ اب ہمیں بھی ان کے ساتھ مل کر لڑنا ہو گا۔ میں ان خواتین جن کے بچے اور بھائی شہید ہو گئے ہیں ان سے اظہار یکجہتی کے لئے احتجاج میں شامل ہو رہی ہیں۔ کشمیر یونیورسٹی میں لیکچرار اور کالم نگار سعدیہ افشاں نے کہا کہ مظاہروں میں خواتین کی شرکت بھارتی فوج کی ناانصافی ظاہر کرتی ہیں۔ خواتین مظاہروں میں پتھر پھینک کر اپنے غصے کا اظہار کر رہی ہیں۔