اکبر بگٹی گولی لگنے سے نہیں تودہ گرنے سے ہلاک ہوئے : چودھری شہباز

لاہور (سلمان غنی) آل پاکستان مسلم لیگ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر سابق وفاقی وزیر چودھری شہباز حسین نے کہا ہے کہ ملکی مفادات اور جمہوریت کے استحکام کیلئے مسلم لیگ کا اتحاد ناگزیر ہے۔ پیر پگاڑا نے اس اتحاد کیلئے گرین سگنل دیدیا ہے اور عیدالفطر کے بعد اس حوالے سے اہم پیشرفت ہوگی۔ جنرل پرویز مشرف کا چودھری صاحبان سے رابطہ قائم ہے اور جلد یہ پھر ایک ہوں گے۔ این آر او کابینہ میں زیرغور لایا گیا تھا۔ چودھری شجاعت نے جنرل پرویز مشرف سے کہا تھا کہ آپ ملک کے مفاد میں جو درست سمجھتے ہیں کریں۔ جنرل مشرف اور بے نظیر بھٹو کے درمیان این آر او کو ٹارگٹ کرنیوالے یہ بھول گئے کہ نوازشریف اور انکا خاندان بھی این آر او کے تحت ہی ملک سے گیا تھا۔ مسلم لیگ کے اتحاد کی کوششیں جلد مسلم لیگ (ن) تک وسیع تر ہوں گی لیکن پہلے مرحلے پر ہم ماضی قریب میں ساتھ چلنے والوں کو دوبارہ اکٹھا چلنے کیلئے تیار کررہے ہیں۔ جونہی پاکستان میں حالات سازگار ہوئے جنرل پرویز مشرف وطن عزیز میں موجود ہوں گے۔ فی الحال وہ اس لئے نہیں آنا چاہتے کہ یہاں جاری سسٹم غیرمستحکم نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ اکبر بگٹی گولیوں کے باعث نہیں پہاڑی تودہ گرنے سے ہلاک ہوئے۔ شجاعت درست کہتے ہوں گے کہ بگٹی سے مذاکرات میں سیزفائر ہوچکا تھا لیکن ہم نے دیکھا کہ سوئی کی خواتین اور بچوں کو بحفاظت باہر نکالا گیا۔ وہ وقت نیوز کے پروگرام ”اگلا قدم“ میں سوالات کے جوابات دے رہے تھے۔ پروگرام کے پروڈیوسر میاں شاہد ندیم اور اسسٹنٹ پروڈیوسر وقار قریشی اور حارث انصاری تھے۔ انہوں نے کہا کہ نائن الیون کے واقعات کے بعد جنرل مشرف کے فیصلے ملکی مفاد میں تھے۔ انہوں نے امریکہ کو ہندوستان کی طرف رجوع نہ کرنے دیا جو ہر طرح سے امریکہ کی معاونت کیلئے تیار تھا۔ یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ جنرل مشرف ایک ٹیلیفون کال پر امریکہ کے سامنے سرنڈر کرگئے۔ جنرل مشرف کے دور میں حالات کنٹرول میں تھے۔ ملک میں ترقی اور خوشحالی تھی۔ آج کیا ہورہا ہے؟ دن بدن حالات بد سے بدتر ہورہے ہیں۔ میں چیلنج سے کہتا ہوں کہ جنرل پرویز مشرف کو ملک اور اقتدار سے بیدخل کرنیوالی قوتیں پاکستان کو غیرمستحکم کرنیوالی قوتیں ہیں۔ جنرل مشرف دنیا بھر میں لیکچرز کے ذریعے پاکستان کا کیس پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کی حکومت سے بیزاری ظاہر کررہی ہے کہ انہیں لانے کا پچھتاوا ہے۔ لوگ سیاسی لیڈرشپ سے مایوس ہو رہے ہیں۔ (ق) لیگ کی انتخابی شکست کے حوالہ سے انہوں نے کہا کہ لوگ کسی بھی حکومتی تسلسل سے تنگ آجاتے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ لوگوں نے ہمیں مسترد کیا۔ آئندہ انتخابات میں ہم پھر برسراقتدار آئینگے۔ انہوں نے ضلعی حکومتوں کے سسٹم کو تعمیر و ترقی کا سسٹم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنرل پرویز مشرف کا کارنامہ تھا۔ اب یہ سسٹم کیوں نہیں بن رہا، کیوں نہیں چل رہا؟ انہوں نے ایک سوال پر کراچی میں جاری ٹارگٹ کلنگ کے واقعات کو الارمنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں امن کیلئے تمام سیاسی قوتوں کو سر جوڑ کر مل بیٹھنا ہوگا۔ اکبر بگٹی کے قتل اور قتل کے مقدمہ کے حوالہ سے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ کسی بھی سیاسی لیڈر کا قتل افسوسناک بات ہوتی ہے لیکن بلوچستان میں آپریشن کا فیصلہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کا تھا اور اکبر بگٹی کی ہلاکت گولی لگنے سے نہیں بلکہ پہاڑی تودہ گرنے سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں عدالتوں کا اپنا وقار ہوتا ہے۔ عدالتوں کا احترام بھی ضروری ہے اور ان کے فیصلوں پر عملدرآمد بھی ضروری ہے۔ جن لوگوں نے کرپشن اور لوٹ مار کی وہ قابل معافی نہیں۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ اقتدار و اختیار آنی جانی چیز ہے لیکن سب سے اہم ملکی بقاءو سلامتی اور آج کا سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی ہے کہ ملکی سلامتی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کا دارومدار سیاسی قیادت کے موثر اور سیاسی طرزعمل پر ہے۔ پاکستان میں جمہوریت کے مستقبل کو محفوظ اور مضبوط بنانے کیلئے ہمیں ملکر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔



دیگر خبریں

پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

16 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

15 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

14 دسمبر 2017
پرنٹ لائن

پرنٹ لائن

13 دسمبر 2017