بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینا مشرف کی پالیسیوں کا تسلسل ہے: لیاقت بلوچ

لاہور (رپورٹ : سیف اللہ سپرا) جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام اس دو جماعتی نظام سے جو مصنوعی بنیادوں پر قوم پر مسلط کیا گیا تنگ آ چکے ہیں اور اس سے چھٹکارا چاہتے ہیں۔ اس کا اندازہ اب دونوں پارٹیوں کو اچھی طرح ہو گیا ہے اور دونوں پارٹیاں اپنی گرتی ہوئی مقبولیت کو دیکھ کر سخت پریشان ہیں اور فکرمند ہیں۔ مینار پاکستان کے سبزہ زار پر منعقد ہونے والا تحریک انصاف کا جلسہ روٹین کا تھا۔ مسلم لیگ (ن) نے اس سے پہلے ریلی رکھ کر اس کی اہمیت بڑھا دی۔ جماعت اسلامی کے پاس آپشن کھلے ہیں اور اس کے تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت سے رابطے ہیں۔ کراچی میں امن اس وقت ہو گا جب وہاں صحیح معنوں میں قانون کی حکمرانی ہو گی۔ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا اس وقت تک بھارت کے ساتھ کسی قسم کا کاروبار نہیں کرنا چاہئے۔ امریکہ افغانستان سے تو نکل جائے گا مگر وہ اس خطے سے نہیں نکلے گا۔ ڈرون حملے حکومت کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ایوان وقت میں خصوصی انٹرویو کے دوران کیا۔ لیاقت بلوچ نے ایڈیٹر انچیف نوائے وقت گروپ جناب مجید نظامی سے ان کے دفتر میں ملاقات بھی کی۔ لیاقت بلوچ نے تحریک انصاف اور مسلم لیگ ن کے ساتھ اتحاد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت اسلامی کے پاس آپشن کھلے ہیں ہمارا دینی جماعتوں کے سربراہوں کے ساتھ بھی رابطہ ہے۔ عمران خان کے ساتھ بھی ملاقات ہوئی ہے اس طرح محمود خان اچکزئی‘ قادر مگسی اور سردار اختر مینگل کے ساتھ بھی ملاقاتیں کریں گے۔ اس طرح مسلم لیگ (ن) کی قیادت کے ساتھ بھی رابطہ ہو سکتا ہے۔ کراچی میں امن کے قیام کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کراچی کے امن کی ذمہ دار پیپلز پارٹی‘ اے این پی اور ایم کیو ایم ہیں اور ان میں سب سے زیادہ حصہ ایم کیو ایم کا ہے۔ بھتہ خوری‘ ٹارگٹ کلنگ‘ اغوا برائے تاوان‘ ٹارچر سیلوں کا قیام ان ساری چیزوں کی موجد ایم کیو ایم ہی ہے۔ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ پرویز مشرف کی پالیسی کا تسلسل ہے۔ کشمیری جب بھی اپنی جدوجہد عروج پر لے جاتے ہیں بھارت کوئی نہ کوئی اپنی شاطرانہ چال چل کر پاکستان کے حکمرانوں کو رام کر لیتا ہے اور کشمیر کی تحریک آزادی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ اس وقت بھارت ہمیں افغانستان میں امریکہ کی گود میں بیٹھ کر مغربی سرحد سے بھی تنگ کر رہا ہے اور مشرقی محاذ سے بھی تاکہ وہ دریاﺅں پر ڈیم بھی بنا لے اور کشمیریوں کی تحریک آزادی کو بھی کچل دے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان اس وقت تک پائیدار تعلقات قائم نہیں ہو سکتے جب تک بھارت مقبوضہ کشمیر میں مظالم بند کرکے وہاں کے لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت نہیں دیتا۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کا غرور خاک میں مل گیا ہے۔ ڈرون حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ حکومت کی مرضی سے ہو رہے ہیں۔ وکی لیکس کی رپورٹس میں بھی یہ چیزیں سامنے آ چکی ہیں جو حکمران امریکہ کے سامنے کشکول پھیلا رہے ہیں وہ ڈرون حملے کیسے روک سکتے ہیں۔