بعض اہم شخصیات نے برطانیہ میں اپنے اثاثوں کی دوستوں رشتہ داروں کے نام منتقلی شروع کر دی

لندن (خصوصی رپورٹ/ خالد ایچ لودھی) پاکستان کے سیاستدانوں کے بیرون ملک اثاثوں اور بھاری بینک اکاﺅنٹس کی برطانوی بینکوں میں موجودگی کے حوالے سے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جس مہم کا آغاز کررہے ہیں اسے برطانیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کی بھاری اکثریت نے سراہا ہے اور پاکستانی کمیونٹی کی بااثر کاروباری شخصیات پاکستان کی تباہ حال معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے اپنے سرمائے کی پاکستان منتقلی کے بارے میں سنجیدہ ہیں اور وہ پاکستان میں مختلف صنعتوں کے قیام اور دیگر کاروباری منصوبوں میں سرمایہ کاری کرنے میں دلچسپی رکھتی ہے لیکن دوسری جانب پاکستان کی بعض انتہائی اہم شخصیات برطانیہ میں اپنے اثاثوں اور بینک اکاﺅنٹس میں ردوبدل کرنے کیلئے مختلف حربے استعمال کررہی ہیں۔ اس ضمن میں ملک کی انتہائی اہم شخصیت نے اپنے قیمتی اثاثوں اور برطانوی بینکوں میں محفوظ سرمائے کو اصلی ناموں کی بجائے اپنے بااعتماد دوستوں اور عزیز رشتہ داروں کے نام منتقلی کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔ اس سلسلے میں برطانوی بزنس ایجنٹس کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں۔ برطانوی فرمیں جو کہ بزنس ایجنٹس کے طور پر کام کرتی ہیں ان سے رابطے کرکے اثاثوں کی فوری طور پر انکی اصل ملکیت دوسرے ناموں سے کروائی جا رہی ہے۔ برطانوی بزنس ایجنٹس کی اہم بزنس فرم کے مالک جونز لینگ لیسلے کے مطابق پاکستان کی شہریت رکھنے والے امیر خاندانوں نے اپنی جائیدادیں اپنے اصلی ناموں کی بجائے بعض کمپنیوں اور دوسرے ناموں سے رجسٹرڈ کروانے کی غرض سے مقامی کونسلوں سے رجوع کررکھا ہے۔
اثاثوں کی منتقلی