آئندہ انتخابات میں 3 بڑے سیاسی اتحادوں کے درمیان مقابلہ ہو گا

لاہور (خواجہ فرخ سعید سے) الیکشن 1988ءسے الیکشن 1997ءتک ملک دو جماعتی نظام کی طرف گامزن رہا لیکن جنرل پرویز مشرف کے دور آمریت میں سیاست کو جس طرح غیر جمہوری آئینی ترامیم کے ذریعے کچلا گیا‘ الیکشن 2008ءمیں انتخابی مہم کے دوران دو جماعتی نظام کی بحالی کا امکان پیدا ہوا مگر پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین 121 اور پاکستان مسلم لیگ (ن) 92 نشستیں حاصل کر کے قومی اسمبلی کی پہلی دو بڑی جماعتیں ضرور بن گئیں۔ 2008ءکے الیکشن کے بعد صورتحال تبدیل ہو گئی ہے اور اس بات کا واضح امکان ہے کہ آنے والے الیکشن میں ملک کی ان دو بڑی جماعتوں میں نہیں بلکہ کم از کم تین سیاسی اتحادوں کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کے اتحادیوں میں مسلم لیگ (ق)‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ متحدہ قومی موومنٹ نمایاں ہیں جبکہ مسلم لیگ فنکشنل بھی فی الحال ان کے ساتھ ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اتحادیوں میں مرکزی جمعیت اہلحدیث‘ بلوچستان سے جمہوری وطن پارٹی اور سندھ سے قوم پرست جماعتیں سندھ نیشنل فرنٹ‘ سندھ ترقی پسند پارٹی‘ سندھ نیشنل پارٹی اور نیشنل پیپلز پارٹی شامل ہوں گی۔ پاکستان تحریک انصاف تیسرا بڑا سیاسی اتحاد بنانے کے لئے کوشاں ہے۔ ان کی اب تک بلوچستان کی جماعتوں پختون خواہ ملی عوامی پارٹی‘ نیشنل پارٹی‘ بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی‘ پاکستان ڈیموکریٹک پارٹی اور جماعت اسلامی سے اتحاد قام کرنے کے لئے بات چیت ہو چکی ہے تاہم جماعت اسلامی نے اپنے آپشن کھلے رکھے ہوئے ہیں۔ اس کی پہلی ترجیح ان دینی‘ سیاسی جماعتوں کا اتحاد ہوں گی جو ماضی میں متحدہ مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے اکٹھی الیکشن لڑ چکی ہیں اور اگر دینی‘ سیاسی جماعتوں کا اتحاد نہ بن سکا تو یہ جماعتیں بھی آل پاکستان مسلم لیگ‘ مسلم لیگ ہم خیال‘ سنی اتحاد کونسل کی طرح تینوں پہلے بیان کئے گئے اتحادوں میں سے کسی ایک کا حصہ بنیں گی۔