پاکستانی طالبان ہتھیار پھینک کر امن کی راہ اختیار کریں: علماءسنی اتحاد کونسل

لاہور (خصوصی نامہ نگار) سنی اتحاد کونسل سے وابستہ 150 جید علمائے کرام، نامور مفتیوں، شیوخ الحدیث اور دینی مدارس کے سربراہوں نے پاکستانی طالبان سے اجتماعی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستانی طالبان اور مسلح گروہ خونریزی، قتل و غارت، عسکریت پسندی اور شدت پسندی چھوڑ کر اور ہتھیار پھینک کر امن و سلامتی کی راہ اختیار کریں اور بے گناہ انسانوں کا خون بہانا بند کر دیں کیونکہ ان کا یہ طرزعمل اسلام کے بدنامی، پاکستان کی کمزوری اور ہزاروں گھرانوں کی بربادی کا باعث بن رہا ہے۔ وہ رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے ہمیشہ کے لیے غیرمسلح ہونے کا اعلان کریں۔ پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ وہ خودکش حملے کر کے غیرشرعی اور حرام فعل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ بے گناہ طالبات، عورتوں، بوڑھوں، غیرملکی مہمانوں، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی جہاد کے منافی ہیں۔ پاکستانی طالبان پاکستانی حکومت کی امریکہ نوازی کی سزا بے گناہ عوام کو نہ دیں۔ ڈرون حملوں کو دہشت گردی کا جواز بنانا درست نہیں ہے۔جن علمائ، مفتیوں اور دینی مدارس کے سربراہوں نے اجتماعی اپیل کی ہے ان میں صاحبزادہ حامد رضا، محمد حنیف طیب، پیر فضیل عیاض قاسمی، طارق محبوب، علامہ شریف رضوی، مفتی اکبر رضوی، مفتی سعید رضوی، مفتی عمران حنفی، مفتی حسیب قادری، نواز بشیر جلالی، پیر اطہر القادری، صاحبزادہ محمد داﺅد رضوی، حامد سرفراز قادری اور دیگر علماءکرام شامل ہیں۔