حکمرانوں نے آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے، ذلت آمیز معاہدہ کیا: سیاسی ردعمل

لاہور (رپورٹنگ ٹیم) سیاسی رہنما¶ں نے آئی ایم ایف سے 5 ارب ڈالر کا نیا قرض لینے پر حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن اور سیکرٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ نوازشریف حکومت نے آئی ایم ایف کی عوام دشمن شرائط تسلیم کرنے میں سابقہ حکمرانوں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیک کر ذلت اور رسوائی کے معاہدے کئے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ورلڈ بنک، آئی ایم ایف سے قرضوں کے جو بھی معاہدے کرے انہیں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما قمر الزمان کائرہ نے اپنے ردعمل میں کہا کہ موجودہ حکومت نے اتنی جلدی بڑا کشکول اٹھا لیا ہے حالانکہ سرتاج عزیز نے کہا تھا کہ یہ حکومت آئی ایم ایف کے دروازے پر شاید تین چار ماہ کے بعد دستک دے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا 320 ارب روپے کے گردشی قرضے 3 ہفتوں میں ختم کرنے کے دعوے حقیقت پر مبنی نہیں 500 ارب رورپے کے قرضے کی وجہ مالیاتی خسارہ 6.8 سے بڑھ کر 9 فیصد ہو گیا تھا آئندہ سال یہ خودبخود 6.5 فیصد پر آ جائے گا۔ جس میں حکومتی پالیسیوں کا کمال نہیں ہو گا کیونکہ 500 ارب روپے کے قرضے کا اندراج حکومتی اکا¶نٹس میں محض ایک بار ہو گا۔ تحریک انصاف کے ایم پی اے میاں اسلم اقبال نے کہا کہ حکومت کو پارلیمنٹ کی منظوری سے آئی ایم ایف سے مذاکرات کرنے چاہئیں تھے۔ آئی ایم ایف نے جو شرائط منوائی ہیں وہ عوام کو مزید پریشانیوں میں ڈال دیں گی۔ حکومت اپنی شاہ خرچیوں کیلئے عوام کی زندگیاں مشکل بنا رہی ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینٹ میں پارلیمانی لیڈر مشاہد اللہ خان نے کہا کہ موجودہ مشکل حالات میں آئی ایم ایف سے اپنی شرائط پر قرضہ لینا مسلم لیگ ن کی حکومت کا کارنامہ ہے۔ حکومت نے زراعت پر ٹیکس لگانے سے آئی ایم ایف کے سامنے معذرت کر لی۔ مسلم لیگ فنکشنل کے مرکزی سینئر نائب صدر سلطان محمود خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی جن شرائط پر حکومت نے اتفاق کیا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ انسٹیٹیوٹ آف اسلامک بنکنگ اینڈ فنانس کے چیئرمین ڈاکٹر مشاہد حسن صدیقی اور اقتصادی ماہر پروفیسر میاں محمد اکرم نے کہا کہ آئی ایم ایف نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے، قومی اثاثوں کو بیچنے اور ڈسکا¶نٹ ریٹ میں اضافے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ان اقدامات سے معیشت کی شرح نمو سست ہو جائے گی۔ مہنگائی کا ایک اور طوفان آئے گا، روزگار کے مواقع کم میسر آئیں گے اور صنعتوں کی پیداواری لاگت بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف ہمیشہ اپنی شرائط پر قرضے دیتا ہے اور خود وزیراعظم نوازشریف نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ہمیں بجٹ بنانے کی آزادی نہیں۔