بجلی کا بحران بڑھ گیا‘ کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے‘ گرمی سے مزید 4 افراد جاں بحق

لاہور(نمائندگان+ایجنسیاں) لاہور سمیت ملک بھر میں بجلی کے بحران میں مزید شدت آگئی،شدید گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے ہلاکتیں نارنگ منڈی، گوجرانوالہ اور چیچہ وطنی میں ہوئیں، شہری علاقوں میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 12 سے 15 جبکہ دیہی علاقوں میں 18 سے 20 گھنٹے تک جا پہنچا ہے جس پر شہری بلبلا اٹھے۔ لاہور سمیت مختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے، حکومت اور واپڈا کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی گئی۔ دیہی علاقوں میں بجلی تین سے چار گھنٹے کی مہمان رہ گئی۔ بعض علاقوں میں مینٹی نینس اور ٹرانسفارمر خراب ہونے کے باعث کئی کئی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل رہی۔ گوجرانوالہ، شیخوپورہ، فیصل آباد، جڑانوالہ، ساہیوال، پیر محل، سمندری سرگودھا، پسرور، سیالکوٹ اور ملتان میں 13 سے 20 گھنٹے کی بجلی بندش سے شہری بلبلا اٹھے۔ ننکانہ صاحب اور پاکپتن میں وکلا نے عدالتی بائیکاٹ کیا۔ محکمہ موسمیات نے آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم کے گرم اور مرطوب رہنے کی پیشگوئی کی ہے۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار کے وکلا نے مکمل عدالتی بائیکاٹ کیا۔ وکلا نے بار روم سے جنرل بس سٹینڈ تک احتجاجی ریلی نکالی، ریلی کے شرکاءنے ریلوے کراسنگ کو بند کرکے شہر میں ٹریفک کی آمد و رفت کو معطل کر دیا اور ٹائروں کو آگ لگا کر واپڈا کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔حاصل پور سے نامہ نگار کے مطابق کسانوں نے شدید احتجاج کیا جبکہ علاقے میں پانی نایاب ہوگیا۔نارنگ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق شدت کی گرمی کی تاب نہ لاتے ہوئے دو افراد جاں بحق ہوگئے۔ نواحی کرتوکے کسان شبیر اور سرحدی علاقہ کا شکیل گرمی کے باعث بے ہوش ہوئے اور طبی امداد سے قبل دم توڑ گئے۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق جناح روڈ پر گرمی کی شدت نے ایک معمر شخص کی زندگی لے لی۔ متوفی سڑک پر جاتے ہوئے ڈھال ہوگیا اور چکرا کر گر لیا اور دم توڑ گیا۔ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار ننکانہ صاحب نے ہڑتال کی اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا۔علاوہ ازیں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 18 جبکہ دیہات میں 20 گھنٹے سے بھی بڑھ جانے کے باعث شدید گرمی اور حبس میںبلبلا اٹھے۔ایک گھنٹہ بجلی آنے کے بعد مسلسل تین، تین، چار، چار گھنٹے بجلی بند رہنا معمول بن گیا۔ شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق وکلا نے بدترین لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور احتجاجی ریلی نکالی اور ریلوے کراسنگ بند کرتے ہوئے ٹریفک معطل کردی۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق محلہ آرائیانوالہ میں تین روز سے ٹرانسفارمر جلنے کے باعث بجلی کی بندش کے خلاف لیسکو آفس لاہور روڈ پر شدید احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں مظاہرین نے ہاتھوں میں کتبے اٹھا رکھے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری موقع پر پنچ گئے۔اس موقعہ پر مظاہرین کے ہمراہ بچوں نے بھی شدید نعرے بازی کی۔ گکھڑ منڈی سے نامہ نگار کے مطابق موضع لدھیوالا چیمہ اور ملحقہ دیہات کے سینکڑوں افراد نے طویل اور غیر منصفانہ لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا اور جلوس نکالا۔ پہلے احمد نگر کلاسکے روڈ بلاک کی گئی اور پھر 25کلو میٹر دور وزیر آباد میں جی ٹی روڈ بلاک کر دی گئی اور ایکسیئن گیپکو وزیر آباد کے دفتر کے سامنے دھرنا دیا گیا اور ٹائر جلا کر جی ٹی روڈ بلاک کردی گئی جس سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ احتجاج کا سلسلہ دو گھنٹے تک جاری رہا۔ قبل ازیں پولیس نے وزیر آباد گرڈ سٹیشن کو اپنی حفاظت میں لے لیا تھا اور مظاہرین کو گرڈ سٹیشن تک جانے نہ دیا۔بعدازاں یقین دہانی پر مظاہرین پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 20 گھنٹے سے تجاوز کر گیا۔چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق شدید گرمی کے باعث ایک شخص راﺅحنیف دم توڑ گیا۔جامکے چٹھہ سے نامہ نگار کے مطابق 18,18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ سے تنگ شہریوں نے مین روڈ بلاک کرکے واپڈا کے خلاف شدید احتجاج کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ لدھیوالہ چیمہ کے شہری موٹرسائیکل اور ٹرالیوں پر سوار تھے اور ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھا رکھے تھے۔