مسلم لیگ ن پنجاب میں دہشت گردوں کی سرپرستی کر رہی ہے: فوزیہ وہاب

لاہور (سٹاف رپورٹر) پیپلز پارٹی کی مرکزی سیکرٹری اطلاعات فوزیہ وہاب نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن پنجاب میں دہشتگردوں کی سرپرستی کر رہی ہے اسے پالیسی تبدیل کرنا ہو گی۔ پیپلز پارٹی اور ن لیگ قومی جماعتیں ہیں انہیں ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہو گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیپلز پارٹی کے بیٹ رپورٹرز کے اعزاز میں دی گئی ہائی ٹی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر پیپلز پارٹی کے مرکزی ڈپٹی سیکریٹری اطلاعات حیدر زمان قریشی، پی پی پنجاب کے سیکریٹری اطلاعات ڈاکٹر فخر الدین ، اورنگزیب برکی، پیپلز پارٹی لاہور کے صدر چودھری اصغر گجر، فائزہ ملک اور حفیط الرحمن بھی موجود تھے۔فوزیہ وہاب نے کہا کہ جیتنے والا کبھی مذاکرات کی بات نہیں کرتا اگر طالبان مذاکرات چاہتے ہیں تو اسکا مطلب ہے کہ وہ شکست کھا رہے ہیں۔ ہماری رائے میں طالبان سے مذاکرات نہیں ہونے چاہئیں تاہم اسکا لائحہ عمل قومی کانفرنس میں طے کیا جائے گا۔ دہشتگردی پر کوئی دو رائے نہیں ہونی چاہئیں اب یہ پاکستان کے دل میں آ گئے ہیں اب سیاست کرنے کا نہیں بلکہ متفقہ سٹینڈ لینے کا وقت ہے۔ پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ مذہبی انتہا پسندی سے ہے جو آج ہمارے سامنے دہشتگردی کی صورت میںہے۔لاہور میں گزشتہ دو برسوں میں دیگر شہروں کی نسبت دہشتگردی کے واقعات بڑھے ہیں۔ مسلم لیگ ن پنجاب میں ہماری اتحادی اور وفاق میں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہے مگر ہم مفاہمت کی پالیسی کے پابند ہیں۔ بعض علماءکی طرف سے گورنر پنجاب پر الزام تراشی کی جا رہی ہے مگر ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی اور اس سے وابستہ کسی شخصیت نے آج تک کسی دہشتگرد تنظیم سے کوئی تعلق رکھا ہے نہ ہمارے رابطے ہیں پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جس نے لال مسجد آپریشن کی کھل کر حمایت کی تھی۔ مسلم لیگ ن کے ساتھ اس لئے اتحاد میں ہیں کہ ہم جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہتے ہیں۔ جب تک تمام سیاسی جماعتیں دہشت گردی کیخلاف ایک پوزیشن پر نہیں آتیں دہشت گردی پر قابو نہیں پایا جا سکے گا۔ دریں اثنا مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبائی وزیر رانا ثناءاللہ نے ضمنی الیکشن کے دوران جھنگ میں کالعدم مذہبی تنظیم کی حمایت حاصل کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی رائے ہے کہ طالبان سے مذاکرات ہونے چاہئیں‘ پیپلز پارٹی اس کے حق میں نہیں۔ دہشت گردی کے حوالے سے دو رائے نہیں ہونی چاہئے۔ عمران کے اس بیان پر کہ مجھے وزیراعظم بنا دیا جائے تو 90 روز میں دہشت گردی ختم کر دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ چلی کی طرح خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہے میں اس سے زیادہ کچھ نہیں کہہ سکتی۔