سانحہ داتا دربار : وفاقی حکومت پنجاب حکومت کو دباﺅ میں لانے کیلئے مخصوص مکتبہ فکر کو استعمال کررہی ہے : تجزیاتی پورٹ

لاہور (رپورٹ: سلمان غنی) داتا دربار پر حملے نے قومی سیاست میں بھی ایک ہلچل پیدا کردی ہے۔ وفاقی حکومت اور پنجاب حکومت کے مابین ایک ایسا تنازع سر اٹھا رہا ہے جس کو اگر ذرا بھی تقویت ملی تو مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین درگزر کی روش دم توڑ جائیگی۔ داتا دربار پر حملے کو پیپلز پارٹی کے اہم ترین رہنماءاور وفاقی وزراءنے مسلم لیگ (ن) کی صوبائی حکومت کو دباﺅ میں لینے کا ایک نادر موقع سمجھا اور اچانک ہی ملک بھر میں ایک مکتبہ فکر کو متحرک کردیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر وفاقی وزیر برائے مذہبی امور حامد سعید کاظمی نے خود ہڑتال کی حمایت کی۔ ان کا خطاب بھی صوبائی حکومت کو دباﺅ میں لینے کی حکمت عملی کا حصہ لگتا تھا۔ سیاسی مبصرین کے مطابق کراچی میں بھی اسی مکتبہ فکر سے وابستہ گروہ کی اچانک میدان سیاستدان میں سرگرمی بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس میں پہلی مرتبہ دہشت گردی کے کسی واقعہ میں دہشت گردوں کی مذمت سے زیادہ پنجاب حکومت کی مذمت کی جا رہی ہے۔ آخر ایسا کیوں ہورہا ہے؟ سیاسی محرکات پر نگاہ رکھنے والے ماہرین اسے پیپلز پارٹی کی مرکزی حکومت کی طرف سے مسلم لیگ (ن) کی اس سیاسی حمایت کو ختم کرانے کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں جو اسے بریلوی مکتبہ فکر سے یکساں طور پر ملتی ہے۔ اسی تناظر میں سب سے پہلے مسلم لیگ (ن) پر کالعدم جماعتوں کی حمایت کے الزامات عائد کرکے انہیں ایک خاص نقطہ نظر سے منسلک کرنے کی کوشش کی گئی اور اب داتا دربار پر حملے کے واقعہ سے پیدا ہونیوالی غم و اندوہ کو ایک مخصوص مکتبہ فکر میں مسلم لیگ (ن) کیخلاف اشتعال پیدا کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ ماہرین سیاسیات کے مطابق پی پی پی کی مرکزی حکومت کی یہ روش مسلم لیگ (ن) کے اس صبر و و تحمل کو ختم کرنے کا باعث بن سکتی ہے جو اب تک نظام کو برقرار رکھنے کیلئے میاں نوازشریف کی گزشتہ روز پریس کانفرنس میں ملتی ہے جس میں انہوں نے مرکزی حکومت کو موردالزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت صوبائی حکومت کے ساتھ انٹیلی جنس شیئرنگ کو منصفانہ بنیادوں پر یقینی نہیں بناتی۔ اس سے قبل میاں شہبازشریف کی طرف سے بھی اسی نوع کی شکایت سامنے آئی تھی۔ ذرائع کے مطابق ایک دوسرے سے خفگی کا یہ عمل کسی خطرناک مرحلے میں داخل ہونے کا خطرہ بھانپتے ہوئے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے میاں نوازشریف سے فوری رابطہ کیا ہے لیکن اس صورتحال پر کڑی نگاہ رکھنے والے ماہرین کے مطابق پیپلز پارٹی کی طرف سے داتا دربار حملے کا سیاسی فائدہ اٹھانے کی حکمت عملی نے مسلم لیگ (ن) کے مختلف رہنماﺅں میں شدید اشتعال پیدا کردیا ہے اور وہ اسے کسی بھی طرح نظرانداز کرنے کو اپنے لئے نہایت خطرناک سمجھتے ہیں۔ اس امر کا اندازہ آئندہ دنوں میں لگایا جاسکے گا کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) میں پیدا ہونیوالا یہ تنازع سیاسی نظام کیلئے کتنا مہلک ثابت ہوتا ہے۔ گو کہ وزیراعظم یوسف رضا کی جانب سے مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں محمد نوازشریف سے ہونیوالے ٹیلیفونک رابطہ کے بعد محاذ آرائی کی کیفیت میں کچھ ٹھہراﺅ آگیا ہے لیکن تنازع کی وجوہات اور اسباب ابھی تک برقرار ہیں اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماﺅں میں اس پوری صورتحال کا سیاسی فائدہ اٹھانے پر پیپلز پارٹی کیخلاف شدید جذبات واضح طور پر نظر آتے ہیں۔ جہاں تک قومی کانفرنس کے انعقاد کا تعلق ہے تو اس حوالہ سے آنے والے چند روز میں اس کا انعقاد اس لئے ممکن نظر نہیں آرہا کیونکہ خود میاں محمد نوازشریف منگل کو بیرون ملک جا رہے ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں کانفرنس کی افادیت خاص نہیں رہ جاتی اور دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستان کی پالیسی پر پیپلز پارٹی کیخلاف مسلم لیگ (ن) میں تحفظات پائے جاتے ہیں جس کا اظہار مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں محمد نوازشریف نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں بھی کیا ہے لہٰذا میاں نوازشریف کی عدم موجودگی میں کانفرنس کوئی مثبت فیصلے نہیں کرسکتی۔