دہشت گردی کے واقعات کے باعث مسئلہ کشمیر پس پشت چلا گیا:فضل الرحمان

لاہور (خصوصی نامہ نگار) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ سازشی عناصر ملکی استحکام کے خلاف کھل کر سامنے آگئے ہیں، داتا دربار میں دہشتگردی جیسے واقعات کے ذریعے سازشی عناصر ملک فرقہ وارانہ آگ بھڑکا کر امن تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ مذہبی قوتوں اور رہنماﺅں کو مثبت کردار کے لئے آگے بڑھنا چاہئے ،ایک دوسرے پر الزام تراشیوںکی بجائے مشترکہ دشمن کو پہنچاننے اور اسے بے نقاب کرنے کی جستجو کرنی چاہئے، نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملکی سالمیت کے خلاف سرگرم بیرونی ہاتھ زیادہ شدت کے ساتھ میدان میں اترا ہے اس کاموثر جواب صرف اتحاد و اتفاق کے ساتھ ہی دیا جا سکتا ہے۔ تخریبی اور دہشتگردی کے واقعات کے باعث آج مسئلہ کشمیر پس پشت چلا گیا ہے، چاہئے تو یہ تھا کہ ہم مشرف کی انفرادی پالیسیوں سے چھٹکارا حاصل کرتے جو ہمارے مسائل کی اصل وجہ ہے پارلیمنٹ کی مشترکہ آواز بھی ہے کہ آمر کی پالیسیوں سے جان چھڑائی جائے۔ لیکن اس پر ابھی تک کسی نے توجہ نہیں دی آج بدقسمتی سے پو را ملک بدامنی کی لپیٹ میں ہے۔ حکومت ملک میں امن کے دعوے تو کر تی ہے لیکن امن کے قیام میں بری طرح نا کام ثابت ہوئی ہے۔ امن کے بغیر حکومتیں بھی قائم نہیں رہا کرتیں، حکومت صرف دعوے نہ کرے بلکہ امن کے قیام کے لئے حقیقی کردار ادا کرے۔ ملک کسی نئی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہو سکتا، مرکزی اور پنجاب حکومت کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کے حوالے سے انہوںنے کہاکہ آج کے دور میں برداشت کی زیادہ ضرورت ہے ہم چاہتے ہیں قوم نے جس جس کو بھی مینڈیٹ دیا اس مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، موجودہ حالات نمبر گیمز کے نہیں مرکزی و صوبائی حکومتوں اور تمام جماعتوں کو مل کر سر جوڑ کر بیٹھنا چاہیئے۔ مڈٹرم انتخابات کے لیے نہ تو حالات ہیں نہ ہی یہ مسائل کا حل ہیں، موجود اسمبلیوں کو ان کی مدت پوری کرنے کا موقع دینا چاہئے۔