ڈرون حملے بند ہو جائیں تو 18ویں ترمیم منظور ہے: منور حسن

لاہور/ پشاور (خصوصی نامہ نگار+ مانیٹرنگ) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ حکومت 18ویں ترمیم کے نتیجے میں ڈرون حملے بند ہونے کی یقین دہانی کرائے تو انہیں یہ ترمیم منظور ہے۔ حکومت نے عدالتی فیصلوں کو مذاق بنا رکھا ہے‘ ایوان صدر اور وزارت قانون آزاد عدلیہ کے راستے میں رکاوٹ ہیں‘ سوئس مقدمات نہ کھولنے دینے کا اعلان توہین عدالت کے مترادف ہے‘ پیپلزپارٹی عدلیہ سے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کرکے جمہوریت کی جڑیں نہ کاٹے‘ پورا ملک بدامنی اور کرپشن کی لپیٹ میں ہے، کمیشن اور کرپشن کا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا جا رہا ہے‘ ملک میں مہنگائی وبے روزگاری، غربت، بدامنی اور بے یقینی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ ایسے حالات میں آئین اور اس میں ترامیم کی حیثیت ختم ہو رہی ہے اور ملک میں انقلاب کی راہ ہموار ہورہی ہے۔ ملک کو مسائل کے گرداب سے نکال کرترقی کی راہ پر ڈالنے کے لئے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ پیپلزپارٹی کا ٹریک ریکارڈ قابل اعتماد نہیں‘ وہ پشاور میں جماعت اسلامی صوبہ سر حد کے شعبہ فہم دین کے دو روزہ کنونشن کے اختتامی سیشن سے خطاب کررہے تھے۔ کنونشن سے امیرجماعت اسلامی صوبہ سر حد سینیٹرپروفیسرا براہیم خان، مولانا محمد اسماعیل نے بھی خطاب کیا۔ منور حسن نے کہا کہ این آر او پرسپریم کورٹ کے فل بنچ نے جو فیصلہ کیاتھا حکومت اس پر عملدرآمد نہیں کررہی ہے اور سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود وزیر قانون اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں اور اب پیپلزپارٹی خم ٹھونک کر عدالت کے خلاف میدان میں آگئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ حکومتی پارٹی کا یہ رویہ افسوسناک ہے، ملک میں عملاًجمہوریت نہیں ہے۔ سول حکومت کی موجودگی میں امریکی حکمرانوں کے بجائے براہ راست آرمی چیف سے ملاقاتیں کررہے ہیںجو جمہوریت کے منافی ہے۔