نجی ہسپتالوں پر حکومتی چیک اینڈ بیلنس ہونا ضروری ہے: سپریم کورٹ

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت) سپریم کورٹ نے ملک بھر کے پرائیویٹ ہسپتالوں کو قانونی دائرہ کار میں لانے کے حوالے سے صوبائی حکومتوں کی طرف سے بنائے گئے قوانین پر عملدرآمد کی رپورٹ طلب کر تے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردی ہے ۔عدالت نے قرار دیا کہ نجی ہسپتالوں پر حکومتی چیک اینڈ بیلنس کا ہونا ضروری ہے کہ کیا وہ عوام کو مناسب علاج معالجہ کی سہولیات فراہم کررہے ہیں کہ نہیں؟ اس بات کی بھی مانیٹرنگ ہونی چاہئے کہ کیا نجی ہسپتالوں کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہے یا وہ معیاری علاج بھی کررہے ہیں؟ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے انکشاف کیا کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم نجی ہسپتالوں کو حکومتی سرپرستی میں مانیٹر کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے اور نہ اس ضمن میں کوئی قانون سازی کی جا رہی ہے۔ پنجاب اور خیبر پی کے کی جانب سے صوبائی قوانین کے حوالے سے تحریری رپورٹ جمع کروائی گئیں۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان کی طرف سے کوئی رپورٹ پیش نہ کئے جانے پر عدالت نے اظہار برہمی کیا جبکہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے آبزرویشن دی کہ حکومت ہمیشہ حکومت ہوتی ہے موجودہ یا سابق حکومت نہیں ہوتی۔ سندھ اور بلوچستان کی صورتحال پر افسوس ہوتا ہے۔ دونوں صوبوں کے قانونی افسران صورتحال سے لاعلم رہتے ہیں اور یہ رویہ اپنایا جاتا ہے کہ کام نہیں کرینگے۔ ان صوبوں میں کام کرنے والے لوگوں کو کنارے پر لگا دیا جاتا ہے۔ عدالتی استفسار پر پنجاب حکومت کے وکیل نے کہا کہ پنجاب میں عدالتی نوٹس کے بعد پنجاب ہیلتھ کیئر ایکٹ پاس کیا ہے جس کے تحت پرائیویٹ ہسپتالوں کو ریگولرائز کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ اگر عدالت وقت دے تو ابھی تک کی گئی کارروائیوں کے حوالے سے سامنے آنے والے نتائج کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جمع کروا دی جائے گی۔ عدالت عظمیٰ نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ پنجاب حکومت تحریری رپورٹ کے ذریعے عدالت کو آگاہ کرے کہ متعلقہ قانون پر کس حد تک عملدرآمد بنایا گیا ہے۔