جہاد سے متعلق آیات و احادیث کے نصاب سے اخراج کی مزاحمت کرینگے : مذہبی رہنما

لاہور(خصوصی نامہ نگار) مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین نے پہلی سے دسویں جماعت کے نصاب میں جہاد سے متعلق قرآنی آیات اور احادیث کو نصاب تعلیم سے نکالنے کی خبروں پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے ملک پاکستان کو بیرونی قوتوں کی خوشنودی کے لئے سیکولر بنانے کی کوششوں کی ہر سطح پر مزاحمت کی جائے گی، پرویز مشرف کی طرح موجودہ حکمران بھی سازشوں میں انشاءاللہ کامیاب نہیں ہوں گے۔ جماعة الدعوة شعبہ سیاسی امور کے سربراہ پروفیسر حافظ عبدالرحمن مکی نے کہاکہ اسلام دشمن قوتیں ایک طرف مسلم ملکوں و خطوں میں بارود برسا رہی ہیں تو دوسری طرف انہیں اسلام کی تعلیمات سے بیگانہ کر کے ان کے دلوں سے جذبہ ایمانی ختم کرنا چاہتی ہیں۔ تحریک حرمت رسول کے کنوینئر مولانا امیر حمزہ نے کہاکہ حکمران پرویز مشرف کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ جماعة الدعوة شعبہ اساتذہ کے ناظم حافظ طلحہ سعید نے کہا کہ حکمرانوں نے نصاب تعلیم سے قرآنی آیات اور احادیث نکالنے کی کوششیں ترک نہ کیں تو اس کے خلاف پورے ملک میںمنظم مہم چلائیں گے۔ امیر جماعت اہلحدیث حافظ عبدالغفار روپڑی، رکن اسلامی نظریہ کونسل آزاد کشمیر مولانا محمد شفیع جوش، ہیومن رائٹس فار جسٹس اینڈ پیس کے چیئرمین حافظ محمد مسعود، تحریک آزادی جموں کشمیر کے سیکرٹری جنرل حافظ خالد ولید و دیگر نے کہا کہ صلیبی و یہودی پاکستان کا اسلامی تشخص ختم کرنا اور نوجوان نسل کے دلوں سے غیرت ایمانی ختم کرنا چاہتے ہیں۔ سنی اتحاد کونسل کے مرکزی رہنماﺅں صاحبزادہ فضل کریم، حاجی محمد حنیف طیب، پیر محمد افضل قادری، ثروت اعجاز قادری، پیر سید محفوظ مشہدی، پیر سید صفدر شاہ گیلانی، محمد نواز کھرل اور پیر اطہر القادری نے مشترکہ بیان میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ سنی اتحاد کونسل نصاب سے جہاد کے پیغام پر مشتمل آیات کو نکالنے کی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دے گی اور اس عمل کی شدید مزاحمت کی جائے گی۔
ردعمل