حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کر لیا: بابر اعوان

لاہور (سٹاف رپورٹر) وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ پاکستان بنانا ریپبلک نہیں دہشت گردی کے خلاف تمام سیاسی و دینی جماعتیں متفقہ مؤقف اختیار کریں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال پر حکومت نے آئندہ دنوں میں آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے جس میں متفقہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا کہ آل پارٹیز کانفرنس کی تاریخ کا فیصلہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سیاسی رہنمائوں سے مشورے کے بعد کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب پاکستان کیخلاف پراپیگنڈا کر رہا ہے اور ضرورت ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو اس بے بنیاد پراپیگنڈے کا جواب دینا چاہئے۔ پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہے اور ہم سب مل کر مغرب کے پراپیگنڈے کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے خلاف مغربی ادارے مرضی کے سروے کرواتے ہیں اور بعد میں میڈیا کو جاری کرتے ہیں۔ قوم متحد اور فعال ہے اور بے بنیاد پراپیگنڈے سے فرق نہیں پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پیپلز پارٹی کا نقصان برداشت کر لے گی لیکن پاکستان کو نقصان نہیں پہنچنے دے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی پنجاب حکومت میں شامل ہے اور اس کے وزراء نے استعفے نہیں دئیے ہیں۔ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے نامزد پراسیکیوٹر جنرل کا تقرر ہو گیا ہے اور پنجاب حکومت باقی معاملات بھی طے ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی 3 فوجی آمروں کے 29 سالہ جبر سے ملک کو نکالنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کے بے بنیاد پراپیگنڈے کا تقاضا ہے کہ پاکستان کی تمام سیاسی قوتیں قومی سلامتی پر مشترکہ پلان سامنے لائیں۔ اس موقع پر منیر احمد خان اور ذکریا بٹ بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 8 ماہ میں ہمارے تجارتی خسارے میں 12.5 فیصد کمی آ چکی ہے جبکہ فرینڈز آف پاکستان کی امداد کو ملا کر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر 20 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ (ن) کی یہ قومی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ وفاقی کابینہ میں واپس آئے۔
بابر اعوان