بھارت ڈھکا چھپا نہیں‘ روس اپنا بدلہ چکا رہا ہے‘ امریکہ ایٹمی اثاثوں کے پیچھے پڑ گیا : معین الدین حیدر

لاہور (سلمان غنی) سابق وزیر داخلہ سندھ کے سابق گورنر جنرل ریٹائرڈ معین الدین حیدر نے کہا ہے کہ بغیر مشاورت کے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فریق بننا اور لال مسجد کے خلاف طاقت کا استعمال اور قتل و غارت بہت بڑی غلطیاں تھیں جن سے خودکش بم دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اکبر بگٹی کا بہیمانہ قتل بہت بڑی زیادتی تھی جس کی وجہ سے آج بلوچستان جل رہا ہے بلوچستان میں حالات کی بہتری کیلئے فوری مذاکرات شروع کریں اختر مینگل کو واپس بلائیں۔ افغانستان عراق کی بجائے آج پاکستان ٹارگٹ لگتا ہے کوئی بین الاقوامی کھچڑی پک رہی ہے۔ چیلنجز کا مقابلہ مل کر ہو سکتا ہے اس حوالہ سے سب ملکر بیٹھیں اور پارلیمنٹ کو بروئے کار لائیں۔ کراچی میں فسادات کی وجہ یہاں کچھ لوگوں کا مسلح ہونا اور قانون سے بالاتر ہونا ہے یہ شہر جام کر دیتے ہیں یہاں لینڈ مافیا سے اس کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کو متحرک ہونا ہو گا سیاسی مصلحتوں سے بالاتر ہو کر قانون نافذ کرنا پڑے گا۔ فاٹا بلوچستان میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ہندوستان سے تو ڈھکا چھپا نہیں البتہ اب روس بھی ماضی کا بدلہ لینے کیلئے سرگرم ہو گیا ہے ۔ روس کے حوالہ سے ہم سپر طاقت توڑنے کا کریڈٹ لیتے رہے اب وہ بھی بدلہ چکا رہا ہے امریکہ کو ترجیح قرار دیتے رہے وہ نیوکلیئر کے خلاف سرگرم ہو گیا‘ سویلین حکومت انہیں اس لئے راس نہیں آتی کہ ڈکٹیٹر سے معاملہ کرنا ایک شخص کو رام کرنا آسان ہوتا ہے بجائے منتخب حکومت کے امریکی عزائم کا مقابلہ اتحاد یکجہتی سے ہونا چاہئے۔ وہ گزشتہ روز وقت نیوز کیلئے خصوصی انٹرویو میں اظہار خیال کر رہے تھے۔ جنرل معین الدین حیدر نے مزید کہا کہ امریکہ انسانی حقوق کا بین الاقوامی چیمپئن بنتا ہے لیکن جو کچھ ابو غریب میں ہوا عراق کی بربریت اور ڈاکٹر عافیہ صدیقی سے سلوک اس کیلئے آئینہ ہے۔ چارٹر آف ڈیموکریسی پر دستخطوں سے امید بندھی تھی لیکن ایک سالہ کارکردگی بھی مایوس کن ہے گورننس بہتر نہیں ہو سکی دہشت گردی کے خلاف جنرل مشرف کا فیصلہ شخصی فیصلہ تھا۔ کولن پاول نے کہا تھا کہ شرائط پر ہم سوچ رہے تھے کہ کچھ مانیں گے کچھ نہیں لیکن مشرف بلا چون و چرا سب کچھ مان گئے آج کی صورتحال اس فیصلے کی پیدا کردہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ خدا کا شکر تھا سندھ میں امن تھا لیکن یکدم فسادات‘ گھیرائو جلائو کی وارداتوں نے امن غارت کر دیا اس میں بیرونی ہاتھ بھی ملوث ہو سکتا ہے۔ ہمارے ہاں پارلیمنٹ اتنی مضبوط نہیں ہوتی جسکا فائدہ دوسری قوتیں اٹھاتی ہیں بدقسمتی سے آج یہ سوال کھڑا ہو گیا ہے کہ ہمارا مستقبل کیا ہے ہم کدھر جا رہے ہیں۔ اس خطرناک رجحان کا حل سر جوڑنے اور اتحاد و یکجہتی سے وابستہ ہے۔ جنرل معین الدین حیدر نے کہا کہ ڈرون حملے پاکستان کی خودمختاری پر حملہ ہیں ۔پاکستان نے تجویز دی کہ یہ عمل ہمارے حوالہ کر دیں لیکن امریکنوں نے انکار کر دیا۔ شہری ہمارے مر رہے ہیں ۔ امریکی ٹیکنالوجی اثر دکھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے اپنی پالیسی کو ایف پاک کا نام دیا ہے اور ان کی افغانستان پر توجہ کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمارا ازلی دشمن ہے اس نے پاکستان کو توڑا دریائوں کا پانی بند کیا مسئلہ کشمیر حل نہیں ہونے دیا۔ ممبئی دھماکوں میں پاکستان کو بدنام کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ ہندوستان اور پاکستان کو ہاتھ میں رکھنا چاہتا ہے ہمیں کہہ رہا ہے ہندوستان دشمن نہیں اگر ہندوستان دشمن نہیں تو کشمیر پر ثالثی کرے۔ دریائوں کا پانی بحال کروائے‘ بھارت نے روس سے دوستی کی اور مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بنوایا اب امریکہ سے دوستی کی ہے خدا نہ کرے کہ مزید نقصان ہو۔ بیان امریکہ دیتا ہے پھر یورپین یونین والے تائید کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ ایٹمی اثاثے محفوظ ہیں کوئی اسلام آباد کی طرف بری نظر نہیں ڈال سکتا ایسی باتیں یہاں مایوسی پھیلانے کیلئے کی جاتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر بننے والے ملک میں بندوق کی نوک پر طالبان مسلط نہیں ہو سکتے انہیں پیسہ کہاں سے ملتا ہے اسلحہ کہاں سے آتا ہے۔
معین الدین حیدر