پاکستان میں ممکنہ تبدیلی پر امریکی حکام کے صلاح مشورے‘ فوج بہترین آپشن ہوگا : واشنگٹن پوسٹ

واشنگٹن (ریڈیو نیوز) ایک امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام نے اشارہ دیدیا ہے کہ پاکستانی فوج اور حزب اختلاف کی جماعتیں آنیوالے دنوں میں آصف علی زرداری اور وزیراعظم کو حکومت سے باہر کرکے ایک نئی حکومت تشکیل دے سکتی ہیں۔ امریکی حکام نے زرداری کا اپنی سیاسی جماعتوںکے سربراہ کے طور پر استعفیٰ دینے، موجودہ حکومتی اتحاد کے خاتمے اور آئین پاکستان کے تحت کسی بھی ممکنہ تبدیلی کیلئے صلاح مشورہ شروع کردیا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں سیاسی ہلچل اور امریکہ کیساتھ پاکستان کے تعلقات میں اچانک تناﺅ نے اوباما انتظامیہ میں افغان جنگ کی حکمت عملی کے اہم ترین پارٹنر کے استحکام کے متعلق تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ حالیہ دنوں میں سی آئی اے کی طرف سے پاکستانی علاقوں میں ڈرونز حملوں میں شدت اور تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد پاکستان نے نیٹو کی سپلائی بند کردی ہے۔ حالیہ واقعہ پاکستان میں جاری سیاسی بے چینی کی وجہ سے اہمیت اختیار کرگیا جہاں غیرمقبول سویلین حکومت کرپشن اور سیلاب کے سانحہ سے نمٹنے میں ناکامی سے دوچار ہے۔ اخبار نے پاکستانی سکیورٹی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ صدر اور وزیراعظم سے ملاقات میں جنرل کیانی نے لوگوں کی تشویش سے انہیں آگاہ کردیا ہے۔ پاکستان میں فوجی ایکشن کے بغیر آئینی طور پر تسلیم شدہ نئی حکومت زیادہ مقبول اور بہتر ہوگی اور وہ امریکی پالیسیوں کی حمایت کرنے کیلئے زیادہ بہتر ہوگی لیکن ابھی واضح نہیں کہ اس نئی حکومت کا سربراہ کون ہوگا۔ نوازشریف زرداری پر شدید تنقید تو کرتے ہیں لیکن امریکی حکام کے نزدیک اس موقع پر حکومت کی باگ ڈور سنبھالنا پسند نہیں کرینگے۔ ایسے میں فوج ہی بہتر آپشن ہوگا۔