مشرف نے فوج کو اقتدار کیلئے اکسایا‘ غداری کا مقدمہ درج کیا جائے : سابق جرنیلوں کا ردعمل

لاہور (رپورٹ: سلمان غنی) سابق فوجی جرنیلوں نے جنرل پرویز مشرف کی جانب سے فوج کے کسی آئینی کردار کی بات کو آئین پاکستان سے انحراف اور سراسر غداری قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ دیوانے ہو گئے ہیں اور ان کے اقتدار کا نشہ نہیں اتر رہا۔ حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے بیانات اور سرگرمیوں کا نوٹس لے‘ ان کا ایجنڈا پاکستان سے وفا نہیں بلکہ وہ یہاں عدم استحکام اور انتشار پیدا کر کے اپنا انتقام پاکستان سے لینا چاہتے ہیں کیونکہ اقتدار سے رخصتی پر انہوں نے اپنے غصہ کا اظہار پاکستان کا خدا ہی حافظ کے الفاظ کہہ کر کیا تھا اور اب بھی وہ نوشتہ دیوار پڑھنے کی بجائے اقتدار کیلئے پاگل ہو رہے ہیں جو خام خیالی ہے۔ سابق آرمی چیف جنرل اسلم بیگ نے کہا کہ جنرل مشرف وہی زبان استعمال کر رہے ہیں جو لندن میں بیٹھے الطاف حسین نے کی۔ دونوں پاکستان میں محب وطن جرنیلوں کو کارروائی کیلئے اکساتے نظر آئے۔ دونوں کا ایجنڈا ایک اور دونوں آئین پاکستان پر اثر انداز ہو کر غداری کے مرتکب ہو رہے ہیں ان کی ان سرگرمیوں کا نوٹس لینا حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کا پاکستان میں کیسا کردار جو شخص پاکستان کو تباہی و بربادی سے دوچار کرنے یہاں دہشت گردی کی آگ لگانے کا مرتکب ہو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ بنا رہا ہو دشمن کے ایجنڈا پر سرگرم رہا ہو عوام اسے معاف نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ دراصل اپنا انتقام پاکستان سے لینا چاہتا ہے لیکن عوام اسے معاف نہیں کریں گے۔ ریٹائرڈ جنرل حمید گل نے جنرل مشرف کی جانب سے فوج کے آئینی کردار کی بات کو دیوانے کا خواب قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا سب سے بڑا مسئلہ اب یہ ہے کہ ان کے دماغ سے اقتدار کا نشہ نہیں اتر رہا اور وہ فوج کی ہمدردیاں سمیٹ کر اپنی واپسی چاہتے ہیں شاید انہوں نے پاکستان کی سیاسی تاریخ کا مطالعہ نہیں کیا وہ ایک گزرا باب ہیں جن کا نہ کوئی سیاسی کردار ہو سکتا ہے، نہ ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ فوج ایسے کسی جنرل کی باتوں میں نہیں آئے گی اور وہ وہی کردار ادا کرے گی جو قوم و ملک نے انہیں سونپا ہے۔ جنرل حمید گل نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف یاد رکھیں کہ یہاں کمال ازم نہیں چلے گا اب تو ترکی نے بھی کمال ازم کو مسترد کر کے وہاں ایک موثر اور مضبوط جمہوریت قائم کی۔ طیب اردگان اور عبداللہ گل کی اصلاحات نے جمہوری راستے سے جمہوریت کو مضبوط کیا ہے اور فوج کا کردار محدود کر دیا گیا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل معین الدین حیدر نے جنرل مشرف کی جانب سے فوج کے کسی آئینی کردار کی بات کو آئین قانون سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نوشتہ دیوار پڑھیں اور قومی اداروں کو امتحان میں نہ ڈالیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل گورننس عدل و انصاف احتساب اور عوامی مسائل کے حل میں فوج کا آئینی کردار نہیں فوج کو جو کام آئین نے سونپ رکھا ہے وہی کافی ہے اور اب پاکستان کسی ایسے عمل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ ریٹائرڈ جنرل راحت لطیف نے کہا ہے کہ فوج کا کام جغرافیائی حدود اور ملکی سلامتی کا تحفظ اور ملکی امور چلانا سیاستدانوں کی ذمہ داری ہے لہٰذا اس مرحلہ پر یہ کہنا کہ فوج کو کوئی آئینی ذمہ داری دی جائے سراسر قومی مفادات سے انحراف ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں غیر جمہوری و غیر آئینی تبدیلیوں کے عمل سے پاکستان کو محفوظ نہیں بلکہ کمزور کیا ہے لہٰذا ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ جمہوری طریقہ سے منتخب حکومت ہی کر سکتی ہے۔ ریٹائرڈ جنرل فیض علی چشتی نے جنرل مشرف کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ فوج کا ایک آئینی کردار تو آئین پاکستان میں متعین ہے۔ وہ اب مزید کون سے کردار کی بات کرتے ہیں۔ خدارا وہ پاکستان کے حالات پر رحم کریں۔ جنرل چشتی نے جنرل مشرف کے کسی سیاسی کردار کے حوالہ سے کہا کہ اگر پاکستان کے عوام کی عزت واقعتاً مر چکی ہے تو پھر جنرل مشرف کا کوئی سیاسی کردار ہو سکتا ہے۔ جنرل (ر) غلام مصطفٰی نے کہا کہ فوج کا اپنا کام ہے اور سیاستدانوں کا اپنا کام‘ ملکی سلامتی کو درپیش چیلنجز سے نمٹنا فوج کا کام ہے اور قومی اور عوامی مسائل کا حل نکالنا سیاست دانوں کا کام ہے۔ پاکستان کسی ترکی کے ماڈل کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے جنرل مشرف کے پاکستان میں سیاسی کردار کے حوالہ سے کہا کہ منتخب حکومت اور سیاست دانوں نے قومی معاملات خصوصاً عوام کے مسائل کو اس حد پر پہنچا دیا ہے کہ لوگ جنرل مشرف کے دور کو یاد کرتے نظر آتے ہیں۔