پنجاب میں کالعدم تحریک طالبان کی طرف سے اہم سیاسی رہنماﺅں پر حملے کا خطرہ


لاہور (نمائندہ خصوصی) پنجاب میں کالعدم تحریک طالبان کے ایک گروہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا انکشاف ہوا ہے جس کے تحت دہشت گرد اہم سیاسی رہنما¶ں پر حملے کر سکتے ہیں، ان کی سکیورٹی یقینی بنانے کے حوالے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور چاروں صوبوں کے آئی جیز کو آگاہ کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاقی ادارے کی جانب سے چاروں صوبوں کے آئی جیز اور محکمہ داخلہ کو بھیجے گئے مراسلے میں بتایا گیا ہے کہ کالعدم تحریک طالبان کا مطیع الرحمان گروہ پنجاب میں بڑے پیمانے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ مراسلے کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قید قاری وقاص نامی دہشت گرد اس ضمن میں دہشت گردوں سے رابطے میں ہے۔ مراسلے میں بعض اہم سیاسی رہنماﺅں کے نام بھی دیئے گئے ہیں اور کہا گیا ہے کہ دہشت گرد ان سیاسی رہنماﺅں کو نشانہ بنا سکتے ہیں۔ اس لئے ان کی سکیورٹی سخت کی جائے۔ مراسلے میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ دہشت گرد سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے میں ملوث ملزمان کی رہائی کے لئے پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ لاہور میں تاوان کے لئے تاجروں اور غیر مسلموں کو بھی اغوا کر سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جن سیاستدانوں کو خطرہ ہے ان میں نواز شریف ، شہباز شریف اور فخر امام شامل ہیں علاوہ ازیں نوائے وقت رپورٹ کے مطابق حساس اداروں کو لاہور میں مبینہ شرپسندوں کے داخلے کی اطلاع ملی ہے جس پر پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور دیگر اہم مسلم لیگ ن کے رہنماﺅں کی سکیورٹی بڑھا دی گئی، حساس عمارتوں اور راستوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی۔