پنجاب : رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں محاصل کی وصولی ہدف سے 35.4 فیصد کم رہی


لاہور (احسن صدیق) پنجاب حکومت کے ٹیکس اکٹھا کرنیوالے اداروں کی نااہلی کے باعث رواں مالی سال 2012-13ءکی پہلی سہ ماہی (جولائی سے ستمبر) میں صوبائی محاصل کی وصولی میں ہدف کے مقابلے میں 35.4 فیصد شارٹ فال پیدا ہوگیا ہے۔ پنجاب حکومت نے رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلئے صوبائی محاصل کی وصولی کیلئے 23 ارب 75 کروڑ 35 لاکھ 74 ہزار روپے کا ہدف مقرر کیا جس کے مقابلے میں صوبائی محاصل اکٹھا کرنیوالے محکمے صرف 15 ارب 33 کروڑ 91 لاکھ 29 ہزار روپے وصول کرسکے جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں 8 ارب 41 کروڑ 44 لاکھ 44 ہزار روپے کم ہے۔ ذرائع کے مطابق بورڈ آف ریونیو کو رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کیلئے 7 ارب 64 کروڑ 71 لاکھ 51 ہزار روپے ٹیکس وصولی کا ہدف ملا۔ اسکے مقابلے میں بورڈ آف ریونیو 5 ارب 88 کروڑ اےک لاکھ 72 ہزار روپے کی ٹیکس وصولی کرسکا جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں اےک ارب 76 کروڑ 69 لاکھ 79 ہزار روپے (23.1 فیصد) کم ہے۔ صرف ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے 4 ارب 70 کروڑ 90 لاکھ 31 ہزار روپے کے ہدف کے مقابلے میں 4 ارب 80 کروڑ 40 لاکھ 32 ہزار روپے کی ٹیکس وصولی کی جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں 9 کروڑ 50 لاکھ 2 ہزار روپے زائد ہے۔ پنجاب ریونیو اتھارٹی 10 ارب 12 کروڑ 41 لاکھ 18 ہزار روپے کے جی ایس ٹی آن سروسز کے ہدف کے مقابلے میں 8 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ روپے کی وصولی کرسکی جو مقررہ ہدف کے مقابلے میں 1.84 ارب روپے کم ہے۔ انرجی ڈیپارٹمنٹ کیلئے ٹیکس وصولی کا ہدف 1.16 ارب روپے تھا لیکن صرف 4.31 کروڑ روپے کی وصولی ہوسکی جو ہدف کے مقابلے میں ایک ارب 11 کروڑ 51 لاکھ 87 ہزار روپے کم ہے۔