نیب کے احتساب کمشن میں بدلنے کا نوٹیفکیشن‘ ڈی جی فنانشل کرائم انویسٹی گیشن نگران مقرر


لاہور (اعظم چودھری سے) وفاقی حکومت نے سابق صدر پرویز مشرف کے دور میں کرپٹ افراد کے احتساب کے لئے بنائے گئے ادارے ”قومی احتساب بیورو“ (نیب) کو ”قومی احتساب کمیشن“ میں تبدیل کر دیا ہے۔ حکومت نے بیورو کی کمیشن میں منتقلی کا نوٹیفکیشن جاری ہوتے ہی فنانشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ کے ڈائریکٹر جنرل کو نگران مقرر کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے گزشتہ دنوں پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا تھا جس میں نیب کے خاتمے اور احتساب کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ مسلم لیگ (ن) اور حزب اختلاف کی دیگر پارٹیوں نے اس بل کی مخالفت کی مگر حکومتی پارٹیوں نے اکثریت رائے سے اس بل کو منظور کر لیا۔ اس بل کی منظوری کے بعد حکومت نے قومی احتساب بیورو کو قومی احتساب کمیشن میں تبدیل کرنے کا باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا اور 30 اکتوبر کو ڈائریکٹر جنرل فنانشل کرائم انویسٹی گیشن ونگ و فنانس کوثر اقبال ملک کو اس منتقلی کا نگران مقرر کر دیا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں نیب کے ایڈیشنل ڈائریکٹر ریجنل بیوروز، دیگر شعبے اور تمام سٹاف 30 اکتوبر کے بعد کوثر اقبال ملک کو جوابدہ ہو گا اور کوثر اقبال ملک ان تمام افسروں کو سٹاف کی معاونت سے حکومت پاکستان کی ہدایات اور قانون کے مطابق احتساب بیورو کو احتساب کمیشن میں منتقل کرنے کا عمل مکمل کرینگے جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ اقدام ملک میں جاری احتساب کے عمل کو سبوتاژ کرنا ہے کیونکہ احتساب بیورو قائم کرتے وقت کرپٹ افراد کیلئے سخت سزائیں مقرر کی گئی تھیں جبکہ موجودہ احتساب کمیشن کیلئے کی گئی قانون سازی میں منتخب اراکین پارلیمنٹ کو احتساب سے مبرا رکھا گیا ہے اور جرم ثابت ہو جانے کے باوجود لوٹ مار کرنے والوں کیلئے سزا انتہائی کم رکھی گئی ہے۔ اس قانون میں ایک شق یہ بھی رکھی گئی ہے کہ قومی دولت لوٹنے کے واقعہ کو دس سال گزر جائیں تو ذمہ داران کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جا سکے گی۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ موجودہ حکومت نے احتساب بیورو کو محض اس لئے ختم کر کے کمیشن میں منتقل کیا ہے کیونکہ اسی دور حکومت میں سب سے زیادہ مقدمات اور ریفرنس حکومتی عہدیداروں کے خلاف ہی قائم ہوئے ہیں جن میں رینٹل پاور پلانٹ، حج سکینڈل، سٹیل مل کیس اور اوگرا سکینڈل سرفہرست ہیں اور ان مقدمات کی تفتیش کی سپریم کورٹ براہ راست نگرانی کر رہی ہے اور موجودہ حکومت کی مدت ختم ہونے کے بعد نگران دور حکومت میں ان لوگوں پر نیب اور سپریم کورٹ کی گرفت سخت ہو سکتی تھی۔