سی این جی پر حکم امتناعی نہیں دیا، ڈاکٹر عاصم کا بیان گمراہ کن ہے: ہائیکورٹ


لاہور (خصوصی رپورٹر) عدالت عالیہ کے رجسٹرار سردار احمد نعیم نے مشیر برائے وزارت تیل و قدرتی وسائل ڈاکٹر عاصم حسین کے اس بیان کو کہ عدلیہ نے سی این جی کی قیمتوں کے بارے حکم امتناعی مافیا کے ایماءپر دیا ہے اور سپریم کورٹ میں وفاقی سیکرٹری پٹرولیم و قدرتی وسائل کے سپریم کورٹ میں بیان کہ” یہ حکم امتناعی عدالت عالیہ لاہور کی طرف سے جاری کیا گیا ہے“ کو گمراہ کن اور حقائق کے برعکس قرار دیا ہے۔ اپنے بیان میں رجسٹرار نے وضاحت کی ہے کہ 20دسمبر کو وفاقی حکومت کی طرف سے ہائی کورٹ کو درخواست کی گئی کہ ایسے مقدمات کو یکجا کردیا جائے جسے منظور کیا گیا ان مقدمات کو ہنگامی بنیادوں پر 27-09-12 ، 09-10-12 اور22-10-12 کو سنا گیا، وفاقی حکومت اور سی این جی کمپنیوں کے وکلاءنے دلائل دیئے ان مقدمات کی مزید سماعت 6 نومبر کو ہوگی۔ ان مقدموں کا فیصلہ آئین اورقانون کے مطابق میرٹ پر کیا جائے گا یہ تاثر غلط ہے کہ کسی کے ایماءپر ان مقدمات کی سماعت نہیں ہوگی اور یہ کہ عدلیہ کوئی کارروائی نہیں کررہی۔ رجسٹرار نے کہا کہ مقدمات کے جلد فیصلہ کے لئے ضروری ہے کہ فریقین مقدمہ کے وکلاءتیاری کے ساتھ عدالت کی معاونت کر یں تاکہ جلدفیصلہ ہوسکے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیف جسٹس ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عاصم کے اس بیان کا نوٹس لے لیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ لاہور ہائیکورٹ نے سی این جی پر حکم امتناعی جاری کیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ کے جاری کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عاصم کا بیان گمراہ کن ہے لاہور ہائیکورت نے ایسا کوئی حکم امتناعی نہیں دیا۔