سینڈی طوفان : کینیڈا میں ایمرجنسی‘ امریکہ میں بحالی کا کام جاری


ٹورنٹو/ نیویارک (ایجنسیاں+نوائے وقت نیوز) سمندری طوفان سینڈی نے کینیڈا میں بھی تباہی مچا دی ہے جس کے بعد ملک بھر میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق سینڈی طوفان امریکہ سے گذرچکا ہے مگر اس کے نقش باقی ہیں جنہیں مٹانے کے لئے طویل مدت اور کثیر سرمایہ درکار ہوگا۔ طوفان نے مغربی ورجینیا ، ورجینیا ، واشنگٹن ڈی سی، میری لینڈ ، اوہائیو، نیویارک اور نیوجرسی سمیت کئی علاقوں کو روند ڈالا۔ مشرقی ساحلی ریاستوں میں عوام اور امدادی کارکن گرنے والی عمارتوں کا ملبہ، ٹوٹے ہوئے درخت اور کھمبے ہٹانے میں مصروف رہے، کوڑا کرکٹ اور کیچڑ اٹھایا گیا تاکہ زندگی جلد ازجلد معمول پر آسکے۔نیو یارک میں بھی صفائی اور تعمیر و مرمت کا کام شروع ہو چکا ہے۔دو دن کے تعطل کے بعد نیو یارک سٹاک ایکسچینج میں صبح روایتی گھنٹی کی آواز کے ساتھ کام شروع ہوا جو اس بات کی علامت تھی کہ شہر کے اہم ترین کاروباری مرکز مین ہیٹن میں زندگی معمول پر لوٹنا شروع ہوگئی ہیں تاہم سٹاک ایکسچینج کے ارد گرد واقع ہزاروں رہائشی عمارتیں اور کاروباری مراکز بدستور بجلی سے محروم رہے۔ جان ایف کینیڈی ائر پورٹ اور نیو یارک لبرٹی ائرپورٹ سے اگرچہ پروازوں کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے لیکن ان کی تعداد انتہائی کم ہے، سڑکوں پر بسیں بھی چلنا شروع ہو گئیں۔ نیویارک کا زیر زمین ریلوے نظام چوتھے روز بھی معطل رہا۔ حکام نے لاگارڈیا ائر پورٹ اور سب وے سروس بھی آئندہ چوبیس گھنٹوں میں جزوی طور پر کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ ریاست نیو جرسی میں تباہی کا دائرہ بہت وسیع ہے اور ہزاروں گھر پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ صدر بارک اوباما نے برائنٹن کے ایک ایمرجنسی شیلٹر میں متاثرین سے ملاقات میں انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ مکمل بحالی تک امدادی کام جاری رہیں گے۔ صدر اوباما نے اپنی انتخابی مہم دوبارہ شروع کردی ہے۔ امریکی اخبارات کے مطابق سینڈی طوفان سے پیدا شدہ ایمرجنسی سے نمٹنے پر دس سے آٹھ لوگوں نے اوباما کو بہت خوب یا اچھا کہا ہے۔ نیو جرسی کے ری پبلکن گورنر نے بھی انکی قائدانہ صلاحیتوں کی تعریف کی ہے۔