ایم ایم اے میں جانے کا فیصلہ نہیں کیا، متفقہ عبوری حکومت بنائی جائے: منور حسن


لاہور(سٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے کہا ہے کہ اگر حکمران ٹولے نے انتخابی عمل کو یرغمال بنا کر مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی کوشش کی تو یہ آخری الیکشن ثابت ہوگا اور محروم و مجبور لوگ انقلاب کے راستے پر چل پڑیں گے ملکی تعمیرو ترقی کے لیے امریکی جنگ کو خیر باد کہہ دینا چاہئے ملک میں دہشت گردی کا خاتمہ ملٹری آپریشنز کے بجائے مذاکرات سے ممکن ہے اس حقیقت کو جتنی جلدی تسلیم کر لیا جائے گا ملک میں امن و امان کی بحالی اسی قدر جلد ممکن ہو سکے گی عوام جس طرح مہنگائی اور زرداری کو لازم و ملزوم سمجھتے ہیں اسی طرح انتخابات اور دھاندلی کو لازمی قرار دیتے ہیں لیکن ہر بار دھاندلی کے ذریعے عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے اس بار ایسا نہیں کر سکیں گے۔ آرمی چیف ملک میں اب تک ہونے والے ملٹری آپریشنز کے نتائج سے قوم کو آگاہ کریں اور الیکشن سے قبل بلوچستان سمیت قبائلی علاقوں، وزیرستان اور کراچی میں مجوزہ آپریشن کا ارادہ ملتوی کردیں اور عام معافی کا اعلان کر کے مذاکرات کا راستہ اختیار کیا جائے۔ عوا م آئندہ الیکشن میں دھاندلی کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ میں منعقدہ امرائے صوبہ کی حلف برداری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر لیاقت بلوچ ، ڈاکٹر فرید احمد پراچہ، حافظ محمد ادریس سمیت جماعت اسلامی کے مرکزی اور صوبائی ذمہ داران موجود تھے۔ منورحسن نے کہاکہ حکومت نے غیر جانبدار الیکشن کمیشن کا تقرر کر کے ہماری تین شرائط میں سے پہلی شرط کو پورا کردیا ہے اور ہمیں امید ہے کہ باقی دو شرائط پر عملدرآمد کو بھی یقینی بنایا جائے گا، حکومت کو چاہئے کہ وہ متفقہ عبوری حکومت کے قیام اور شفاف ووٹر لسٹوں پر صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کو بھی یقینی بنائے۔ منورحسن نے کہاکہ امریکہ جو سلالہ میں 24 فوجی جوانوں کی شہادت پر معافی مانگنے کے لیے تیار نہیں تھا ، ملالہ واقعہ پر بڑھ چڑھ کر مدد کررہاہے آخر اس کے پیچھے اس کے کچھ تو مقاصد ہیں جن کو قوم سے اوجھل رکھا جا رہا ہے۔ علاوہ ازیں جماعت اسلامی کے صوبائی امرا نے آئندہ تین سال کے لئے اپنی ذمہ داریوں کا حلف اٹھا لیا۔ گزشتہ روز سید منورحسن نے چاروں صوبوں کے ارکان کی آراءکی روشنی میں ڈاکٹر سید وسیم اختر کو پنجاب ، ڈاکٹر معراج الہدٰی صدیقی کو سندھ، پروفیسر محمد ابراہیم خان کو خیبر پی کے اور اخونزادہ عبدالمتین کو صوبہ بلوچستان کا امیر مقررکیا ہے۔ این این آئی کے مطابق سید منور حسن نے متحدہ مجلس عمل میں شامل ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صاحبزادہ ابوالخیر زبیر ان کے پاس مولانا فضل الرحمن کے بیان سے اظہار لاتعلقی کے لئے آئے تھے جماعت اسلامی نے ایم ایم اے میں جانے کا فیصلہ نہیں کیا، انتخابات سے تین ماہ پہلے فاٹا اور بلوچستان میں فوجی آپریشن بند کیا جائے۔