وکلاء کے تشدد کے خلاف صحافیوں کا مظاہرہ‘ دھرنا

لاہور (نامہ نگار؍ وقائع نگار خصوصی) لاہور میں صحافیوں پر وکلاء کے تشدد کے خلاف پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلٹس کی کال پر پنجاب یونین آف جرنلسٹ اور لاہور پریس کے زیر اہتمام شاہراہ قائداعظم پر دفتر پی یو جے سے لاہور ہائیکورٹ تک احتجاجی ریلی نکالی گئی ،ریلی میں بڑی تعداد میں صحافیوں نے شرکت کی۔ ریلی کے شرکاء نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں‘ صحافیوں پر وکلاء کے تشدد کے خلاف نعروں پر مبنی بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ اس موقع پر شرکاء نے شدید نعرے بازی کی۔ شرکاء کالے کوٹ کی غنڈہ گردی نہیں چلے گی‘ نہیں چلے گی‘ ظلم کے ضابطے ہم نہیں مانتے۔ وکلاء گردی بند کرو کے نعرے لگا رہے تھے اس موقع پر شرکاء نے لاہور ہائیکورٹ چوک پردھرنا دیا اور سینہ کوبی کی۔ ریلی کی قیادت پی یو جے اور لاہور پریس کلب کے عہدیداروں احسن ضیائ‘ سرمد بشیر‘ رانا عظیم‘ زاہد عابد‘ سینئر صحافی سلمان غنی‘ اسد ساہی ‘ ناصر نقوی اور دیگر کر رہے تھے۔ صحافی رہنمائوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی برادری نے ہمیشہ معاشرے کی صحیح تصویر کشی کی ہے ہم نے کبھی کسی سے تعصب نہیں برتا مگر چند روز قبل وکلاء کے روپ میں چند کالی بھیڑوں کی طرف سے ایک ٹی وی چینل کے رپورٹر اور کیمرہ مین پر حملہ کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا اگر وکلاء کی پروفیشنل تنظیموں نے اپنی صفوں میں گھسی کالی بھیڑوں کا احتساب نہ کیا تو صحافی ان کی تقریبات کا بائیکاٹ جاری رکھیں گے۔ وقائع نگار خصوصی کے مطابق ادھر گذشتہ روز دوسرے دن بھی بعض وکلاء تمام اخبارات اور نیوز چینل کے صحافیوں کو سیشن کورٹ سمیت دیگر ماتحت عدالتوں میں داخل ہونے پر تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے تیار رہے۔ تاہم دوست احباب کے اطلاع کرنے پر کوئی صحافی ماتحت عدالتوں میں داخل نہ ہوا صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنانے کیلئے قائم کی گئی ٹیم سارا دن ان کی تلاش میں گھومتی رہی جس پر لاہور ہائیکورٹ بار کے ذمہ داران نے صحافیوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ ہمارے ساتھ مذاکرات کریں ہم میڈیا سے تصادم نہیں چاہتے۔ جس پر ہائیکورٹ کے ایک رپورٹر نے ان کو بتایا کہ آپ مصالحت کی بات کر رہے ہیں جبکہ سینئر نائب صدر لاہور بار ایم آر اعوان صدر رانا ضیاء عبدالرحمن کے ہمراہ چند لمحے قبل احاطہ ہائیکورٹ میں درجنوں وکلاء کی موجودگی میں دھمکیاں دیکر گیا ہے۔ جس پر انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اس کی پرزور مذمت کی۔ گذشتہ روز لاہور بار کے ایک اہم عہدے دار نے پھر پچاس سے زائد نوجوان وکلاء پر مشتمل ایک ٹیم تشکیل دی جسے یہ کہا گیا کہ ماتحت عدالتوں میں جہاں بھی کوئی رپورٹر دیکھو اس پکڑ لو اس کا ایسا حشر کرو کہ وہ رپورٹنگ بھول جائے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نوجوان وکلاء کی وہ ٹیم کینٹ کچہری‘ ضلع کچہری‘ ماڈل ٹائون کچہری‘ ایوان عدل اور نئے و پرانے سیشن کورٹ میں سارا دن صحافیوں کی تلاش میں سرگرداں رہی۔