پروفیسر طاہرہ کے قتل کا معمہ حل، قاتل یونیورسٹی کا ہی الیکٹریشن نکلا

لاہور(نامہ نگار) سی آئی اے اقبال ٹاﺅن نے پنجاب ےونیورسٹی نیو کیمپس لاہور میں خاتون پروفیسرطاہرہ پروین ملک کوبے دردی سے قتل کرنے والے تین سفاک ملزمان کوٹریس کر کے گرفتار کر لیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنجاب یونیورسٹی رہائشی کالونی میں پروفیسر طاہرہ پروین کے قتل کی واردات کے بعدایس ایس پی انوسٹی گیشن غلام مبشر میکن نے ایس پی سی آئی اے طارق الہٰی مستوئی کو ملزمان کی جلد گرفتاری کی ہدیت کی جس پر ایس پی سی آئی اے نے ڈی ایس پی سی آئی اے اقبال ٹاﺅن خالد محمود فاروقی کی زیر نگرانی پولیس ٹیم تشکیل دی اور فوری طورپر ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ پولیس ٹیم نے پروفیسر طاہرہ پروین کے گھر آنے جانے والے ملازمین کی تفصیل لی اور مشکوک اشخاص کے موبائل نمبرز حاصل کیے اور ان کی حرکات و سکنات کا باریک بینی سے جائزہ لیا۔ان ہی مشکوک اشخاص میں شامل الیکٹریشن سجادعلی کو بھی شامل تفتیش کیا ۔پولیس نے سجاد علی کی نشاندہی پراس کے گہرے دوست حماد اسلم اور سنیل مسیح کو بھی شامل تفتیش کیا ۔ابتدائی تفیتش میں معلوم ہوا کہ الیکٹریشن سجاد علی بھی پروفیسر صاحبہ کے گھر گاہے بگاہے بجلی کے کام کیلئے آتا تھااور اسے بخوبی علم تھا کہ پروفیسر صاحبہ گھر میں اکیلی رہتی ہے اور کافی روپے پیسے بھی اسکے پاس موجود ہیں۔سجاد ، حماد اورسنیل مسیح آپس میں گہرے دوست تھے۔جنہوں نے قسطو ں پر مختلف الیکٹرانک اشیاءخرید رکھی تھیں اور ادائیگی کے لیے رقم ناکافی تھی ۔جس پر رقم ادا کرنے کیلئے پروفیسر کے گھر واردات کرنے کا منصوبہ بنایا۔سجاد علی پنکھے کا ڈمر ٹھیک کرنے کیلئے گھر میں داخل ہوااور اندر جا کرموقع پاکر ایک عدد موبائل فون اور 100 ڈالر چوری کر لیے ۔اسی اثناءمیںپروفیسر طاہرہ پروین نے انہیں دیکھ لیا جس پر ملزم سجاد نے پکڑے جانے کے ڈر سے پیپر نائف سے اس کی گردن پر وا ر کئے اور پروفیسرطاہرہ پروین کو قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہو گئے۔ زیر حراست ملزمان سے مزید تفتےش جاری ہے۔
پروفیسر / قاتل گرفتار