مہم کس کا ایجنڈا

کالم نگار  |  محمد اکرم چوہدری
مہم کس کا ایجنڈا

آج وطن عزیز میں افسوس ناک حالات پیدا کردیے گئے ہیں، دشمن کا ایجنڈا تکمیلی مراحل میں داخل ہوتا نظر آرہا ہے، اداروں کے خلاف بھرپور مہم چلائی جارہی ہے، خاص طور پر پاک فوج کے خلاف سویلین معاملات میں دخل اندازی کا الزام لگانے کی مہم جاری کر دی گئی ہے۔ جس کا مقصد عوام اور فوج کا آپسی تعلق خراب کرنا ہے۔ حالانکہ ان باتوں کی نشاندہی میں اپنے گزشتہ کالموں میں کرتا آیا ہوں کہ دشمنوں نے اس حوالے سے اربوں ڈالر خرچنا شروع کر دیے ہیں کہ پاکستان کے اندرونی حالات کو اس قدر خراب کر دیا جائے کہ وطن عزیز سسکیاں لیتا رہے۔ گزشتہ دو تین روز میں اس مہم نے خاصا زور بھی پکڑا ہے کیوں کہ جب دھرنے کے حوالے سے حکومت بے بس نظر آئی اور پوری دنیا میں تماشا بنی تو یہ پاک فوج ہی تھی جس نے بات چیت کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا اس حوالے سے لاہور ہائی کورٹ کے تاریخی ریمارکس ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے مذکورہ کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی محمد امین کا کہنا ہے کہ فوج نے مصیبت سے نکالا، کردار ادا نہ کرتی تو کتنی لاشیں گرتیں،میجر اسحاق شہید کے تابوت کے پاس بیٹھی اس کی بیٹی کی تصویر فوج کی قربانیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے، شہری کی بازیابی کے لیے ہم نے پاکستان کے اداروں کو ہی حکم دینا ہے، بھارتی ایجنسی ’’را‘‘ کو نہیں ، پاکستان کے شہری کو بازیاب کرانا اب عدالت کا مسئلہ ہے، افسوس کی بات ہے کہ ایسا وقت بھی آنا تھا جب عدلیہ کے خلاف تلخ جملے استعمال ہونے تھے،اپنے وزیروں کو کہہ دیں کہ عدلیہ کی عزت کرنا شروع کردیں۔

جسٹس قاضی محمد امین کے یہ ریمارکس حب الوطنی کا ثبوت ہیں اور آگے چلنے سے پہلے فوج کے شہداء کے حوالے سے ایک قصہ بیان کرتا چلوں کہ 1965ء کی جنگ کے چند ماہ بعد مدینہ منورہ میں ایک عمر رسیدہ پاکستانی خاموش بیٹھا آنسو بہاتے روضہ رسول مبارک کی طرف دیکھے جارہا تھا،یہ 11 ستمبر 1965 کوسیالکوٹ پھلورا محاذ پر شہید ہونے والے کوئٹہ انفنٹری سکول کے انسٹرکڑ میجر ضیاء الدین عباسی کے والد تھے ،ان کے والد جب اس وقت کے صدر مملکت ایوب خان سے اپنے بیٹے کو بعد از شہادت ملنے والا ستارہ جرات وصول کر رہے تھے تو صدر صاحب نے ان سے ان کی خواہش کا پوچھاتو انھوں نے عمرہ کی خواہش ظاہر کی جسے صدر نے قبول کر لیا،شہید میجر ضیاء الدین عباسی کے والد جس وقت روضہ رسول پاک ﷺ کے سامنے بیٹھے آنسو بہا رہے تھے تو خادم مسجد نبوی وہاں آئے اوروہاں بیٹھے لوگوں سے پوچھا کہ آپ میں سے پاکستانی کون ہے جس پر انھوں نے اپنا کہا کہ وہ پاکستان سے آئے ہیں ۔خادم مسجد نبوی نے ان سے پوچھا کہ آپ پاکستانی فوج کے میجر شہید ضاء الدین عباسی کو جانتے ہیں جس پر انھوںنے فرط حیرت سے انھیں بتایا کہ میں ہی تو ان کا والد ہوں ،یہ سنتے ہی خادم رسول ﷺ نے انہیں گلے لگا لیا اور انھیں فوراً اپنے گھر لے گئے جہاں انھوں نے اپنے مہمان کو بڑی عزت سے احترام سے اپنے اہل و عیال کے ساتھ کھانا کھلایا ،سب گھر والے انھیں بڑی عزت و احترام سے دیکھ رہے تھے ،میجر شہید کے والد بہت حیران تھے کہ یا الہٰی یہ کیا ماجرا ہے میں تو ان صاحب کو جانتاتک نہیں اور زندگی میں پہلی بار میرا سعودی عرب آنا ہوا ہے ،وہ اسی شش و پنج میں تھے کہ اتنے میں خادم خاص رسول اللہﷺ نے ان کے ہاتھوں کے ایک بار پھر بوسے لئے اوران کی حیرانگی کو دور کرتے ہوئے کچھ یوںگویا ہوئے کہ میجر ضیاء الدین بھی اسی طرح جرأت و بہادری کے ساتھ دشمن کا مقابلہ کرتے ہوئے شہیدہوئے ہیں جو صحابہ کرام کا طرۂ امتیاز تھا۔
لیکن افسوس یہ ہے کہ آج ہم نے ان شہداء کو پیچھے چھوڑ دیا اور ایک ایسی مہم میں فوج کی کردار سازی پر لگ گئے ہیں جو دشمن کا خاص ایجنڈے کے سوا کچھ نہیں یہ ’’مہم‘‘ قومی وقار ، قومی سلامتی اور دشمن کے مذموم ایجنڈے کو پورا کرے گی۔ میرے خیال میں فوج ، ایف آئی اے اور دوسرے اداروں کو اس حوالے سے تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو نہ صرف ملکی سلامتی کو نقصان پہنچے گا بلکہ اس سے آئندہ بھی ملک دشمن قوتوں کو تقویت ملے گی۔ اسٹیبلشمنٹ کے بارے میں سازشیں ہر دور میں ہوتی رہی ہیں مگر آج جس زاویے سے منظم مہم جارہی ہے اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایسا تو کہیں بنانا ری پبلک میں نہیں ہوتا، نہ ہی اس حوالے سے بات کی جاتی ہے۔
افسوس تو اس بات کا ہے کہ ہمارے سیاستدان آج تک فوج کے آئینی کردار کا تعین نہیں کر سکے اور وہ پاک فوج کو پولیس کا کام دینا چاہتے ہیں تو پھر ملک کا اللہ ہی حافظ ہے۔ ہمارے سیاستدان اگر اسی سپرٹ کے ساتھ سوچتے رہیں گے تو ہم آگے نہیں بڑھ سکیں گے۔ فوج ملک کا کام اندرونی و بیرونی سکیورٹی ، ملک کے خلاف ہونے والی سازشوں کو ناکام بنانااور ملک کی حکومت میں اُن کی عزت اور احترام کو برقرار رکھنا، حکومت کی ذمہ داری ہوا کرتی ہے۔ جو حکومتیں ، ادارے اور شخصیات ملک کی فوج کے خلاف کام کرتے ہیںوہ تباہی اور بربادی کی مثال بن جاتے ہیں ۔ اور جوکچھ لوگوں نے سوشل میڈیا میں پاک آرمی سے متعلق کہا ہے وہ باعث شرم ہے ، وہ کسی خاص مقصد کے لیے ایسی مہم چلانے کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ فوج کی حمایت کی بات نہیں ہے یہ بات ہے پاکستان کے اداروں کو مضبوط کرنے کی اور ہمیں شاید اس بات کا ادراک نہیں ہو رہا کہ ہمارے خلاف ایک مخصوص مہم کا آغاز ہو چکا ہے جس کے مطابق پاکستان کے اداروں کو کمزور کیا جائے۔ پاکستان کی فوج کو اُس کی عوام کی نظروں سے گرادیا جائے، اور اداروں کے سامنے عوام کو کچھ نہ سمجھا جائے۔ کیا یہ دشمن کا ایجنڈا نہیں ہے؟ کیا کوئی محب وطن پاکستانی ایسا کر سکتا ہے؟ کیا کوئی اس بارے میں سوچ بھی سکتا ہے کہ وہ ملک کے اداروں کے خلاف مہم چلا کر دشمن کے ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
ہمیں ایسی کسی مہم کا حصہ بننے کے بجائے اس کا تدارک کرنا چاہیے، اگر سویلین حکومت کو فوج کے ساتھ تحفظات ہیں یا کسی حوالے سے کوئی مسئلہ ہے تو اُس کا مل بیٹھ کر حل نکالا جانا چاہیے۔ اگر پھر بھی مسئلے کا حل نہ نکلے تو دونوں اطراف سے اعلیٰ قیادتوں کو مل بیٹھ کر مسائل حل کرنے پر ترجیح دینی چاہیے اور جو بھی باہمی گفتگو ہو وہ نہ تو میڈیا کا حصہ بنے اور نہ ہی کسی دوسرے کو خبر ہونی چاہیے، بس جو ملکی مفاد میں بہتر ہو وہی گفتگو منظر عام پر آنی چاہیے۔اگر ہم ایسا نہیں کر سکتے تو ہم بنانا ری پبلک سے بھی آگے نکل جائیں گے۔ آج کراچی کی شاہراہوں پر امن و امان بڑی مشکل سے قائم ہوا ہے اور اس میں سب سے بڑا کریڈٹ فوج کو جاتا ہے ، آج ملک میں سی پیک جیسے بڑے پراجیکٹ بن رہے ہیں جس پر کرپٹ لوگوں کی رالیں ٹپک رہی ہیں اور ملک دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ یہ منصوبہ نہ بنے جبکہ پاک فوج دشمن کے عزائم کو بھانپ چکی ہے اور دشمن کو خبردار کیا ہے کہ’’مودی ہو یا ’’را‘‘ یا کوئی اوردشمن‘ ہم ان سب کی سازشوں اور چالوں کو اچھی طرح سمجھ چکے ہیں… اقوام عالم میں پاک فوج اول نمبر پر رہی ہے ، امید ہے آئندہ بھی یہ اعزاز پاکستان کے پاس ہی رہے گا…
قوم امید کرتی ہے کہ پاک فوج جس جذبے سے کام کرہی ہے اُسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھتی رہے گی ، اور ملک بھر میں دشمن کے ایجنڈے کو تکمیل پہنچانے والے لوگوں کے عزائم کو آشکار کرتی رہے گی۔ آخری بات یہی کہوں گا کہ ملک کے سیاستدان پاک فوج کے ساتھ قدم کے ساتھ قدم بڑھائیں اوراگر وہ حب الوطنی کا ثبوت دیں تو یہ بات میں دعوے سے کہتا ہوں کہ ملک کے تمام ادارے اُن کی عزت کریں گے ۔