”را“ ایک نیا ڈرامہ رچانے والی ہے؟

کالم نگار  |  آغا امیر حسین
”را“ ایک نیا ڈرامہ رچانے والی ہے؟

چند روز قبل نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ شائع کی کہ پاکستان میں بڑے پیمانے اور سائنٹفک طریقوں کے ذریعے ایک پرائیویٹ کمپنی ایگزیکٹ دنیا بھر کی یونیورسٹیوں کی جعلی ڈگریاں فروخت کر رہی ہے،ایسی ایسی باتیں سننے کو مل رہی ہیں جن کے بارے میں سوچنا بھی ناقابل یقین ہے ۔ آنےوالے دنوں میں ایگزیکٹ کے معاملات سے پردہ اٹھ جانے کی توقع ہے لیکن اس کی وجہ سے جو افسوس ناک پہلو سامنے آیا ہے وہ ہے ہماری حکومت کی بے خبری، خفیہ اداروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ ملک کے اندر اس طرح کی شرمناک سرگرمیوں پر نظر رکھتے، وہ کہاں ہیں؟
یوں تو ہمارے ملک میں جعلی ڈگریوں پر بہت شور شرابہ عرصہ دراز سے چل رہا ہے، چند ایک کو سزائیں بھی ہوئی ہیں لیکن جو اسکینڈل ”ایگزیکٹ“ کے نام سے نیو یارک ٹائمز کی وجہ سے سامنے آیا ہے وہ تو انتہائی شرمناک اور تکلیف دہ ہے۔ کیا یہ بھی کسی سازش کا منصوبہ ہے؟ بھارت کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول کے بیانات اور پریس کانفرنسوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اگر بات کریں تو حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے بھارت کی ریشہ دوانیوں کا بر وقت نوٹس نہیں لیا، جبکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے اور دوسرے بالغ نظر صحافیوں کے بے شمار کالم ریکارڈ پر موجود ہیں جن میں صاف لفظوں میں ”را“ کی کارستانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ پاکستان میں ”امن کی آشا“ کے نام سے جو سرگرمیاں پچھلے کئی سال سے جاری ہیں اور جو لوگ اس میں ملوث ہیں وہ پردے میں نہیں ہیں۔ ان اداروں اور افراد کی تنظیمی کوششوں اور زرِ کثیر صرف کرنے کے نتیجے میں پاکستانی نوجوانوں میں تقسیم ہند کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے حتیٰ کہ وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف نے دہلی میں اور پھر اسلام آباد میں تقسیم کے حوالے سے جن خیالات کا اظہار کیا وہ بھی پاکستان سے محبت رکھنے والوں کیلئے تشویش کا باعث بنا ہے۔
ابھی حال ہی میں جب پاکستانی افواج کے سپہ سالار جنرل راحیل شریف نے ”را“ کی سرگرمیوں کا تذکرہ سخت الفاظ میں کیا اور مذمت کی اور حکمرانوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی، تب بھی پاکستانی حکمرانوں نے ان ریشہ دوانیوں کو کوئی اہمیت نہ دی سوائے اس بات کے کہ ”را“ کی تخریب کاریوں کے ثبوت مل گئے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکومت کس بات کا انتظار کر رہی ہے؟ حکمران اقوامِ عالم کے سامنے اس مسئلے کو اٹھانے کی بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ آخر حکمران کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟ بھارت کی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا طویل ریکارڈ سامنے ہے۔ مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے، سمجھوتہ ایکسپریس، بمبئی کے تاج ہوٹل کو جلانے اور پھر کشمیر میں مسلمانوں کے قتل عام جیسے بھارتی منصوبے سامنے ہیں جن کے بارے میں راہول گاندھی سے لےکر اجیت دوول اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ واضح طور پر پاکستان کو دھمکاتے چلے آ رہے ہیں۔ ”را“ کی سرگرمیوں کا راز فاش ہونے کے بعد تردید یاشرمندگی کا اظہار کرنے کے بجائے بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے صاف لفظوں میں پاکستان کو دھمکی دی ہے اور یہ کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان زندہ باد کے نعروں کو برداشت نہیں کیا جائےگا!!
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب کسی بھی دن نام نہاد طالبان یا کسی لشکر کی طرف سے پاکستان میں یا بھارت میں میزائل حملے کا ڈرامہ رچایا جائیگا اور پھر ساری دنیا میں یہ شور مچایا جائیگا کہ پاکستان کے ایٹمی ذخائر محفوظ ہاتھوں میں نہیں ہیں اس لیے پاکستان کےخلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی ہونی چاہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس طرح کی کارروائی کیلئے زمین ہموار کی جاچکی ہے۔ پاکستان کے حکمران طبقات ذاتی مفادات سے باہر نکل کر قومی مفادات پہ سوچنے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں۔ آپریشن ضربِ عضب اور کراچی میں رینجرز کے آپریشن کے حوالے سے جنرل راحیل شریف نے کوئٹہ کے کمان اینڈ کنٹرول کالج میں نوجوان افسروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنگیں قوم کی شرکت سے ہی جیتی جاسکتی ہیں، قوم کا متحد ہونا بہت ضروری ہے ۔ جنوبی وزیرستان سے لےکر کراچی تک پاکستان دشمن تنظیمیں منظم کارروائیاں کر رہی ہیں۔ 99 فیصد پاکستانی ان تخریبی کارروائیوں کےخلاف متحد ہیں۔ جس بڑے پیمانے پر پاکستان اپنے انٹیلی جنس اداروں، پولیس، رینجرز اور فوج پر پیسہ خرچ کر رہا ہے اسکے مقابلے میں نتائج خاطر خواہ حاصل نہیں ہو پا رہے اور یہ اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک پورے ملک میں بلاتخصیص آپریشن کلین اَپ نہیں ہوتا۔ اگر میٹرو پولیٹن شہروں اور دیہاتی عوام کو منظم کر لیا جائے تو ملک کے تمام مسائل حل ہوسکتے ہیں، پاکستانی عوام کا اتحاد، مفاد پرست طبقات کی موت ہے وہ آخر دم تک مزاحمت کرینگے۔ معروف تعلیمی اداروں میں جہاں پاکستان کی ایلیٹ کلاس کے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں یہاں کی صورتحال پاکستان کی موجودہ کشمکش کو ظاہر کرتی نظر آتی ہے۔ ایک طرف ٹخنوں سے اونچی شلواریں، داڑھی اور بچیاں مکمل حجاب میں نظر آتی ہیں تو ساتھ ہی دوسری طرف مغربی تہذیب کے دلدادہ بچے اور بچیاں مکمل طور پر ویسٹرن لباس اور ماحول میں نظر آتے ہیں۔ ایک ہی سوسائٹی، ایک ہی طبقے اور ماحول کے امراءجو حکمران بھی ہیں کے بچے اور بچیوں میں یہ خوفناک تقسیم مستقبل میں بھیانک صورتِ حال کی نشاندہی کر رہی ہے۔ حکومت کے ذمہ داروں کے سوچنے اور اس تضاد کو ختم کرنے کی ضرورت ہے۔!!