انتخابی تھیلے کھولنے کا حکم اور راہداری کانفرنس

کالم نگار  |  قیوم نظامی
انتخابی تھیلے کھولنے کا حکم اور راہداری کانفرنس

انتخابات 2013ءکی شفافیت کا جائزہ لینے والا جوڈیشل کمیشن جس کی سربراہی چیف جسٹس پاکستان جسٹس ناصر الملک خود کررہے ہیں۔ قانون اور انصاف کے تقاضے پورے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ پاکستان کے عوام انصاف ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے جج صاحبان ہر صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے پوری طرح اہل ہیں۔ جوڈیشل کمیشن نے سیاسی جماعتوں کے وکلاءسے مشاورت اور اتفاق رائے کے بعد فیصلہ دیا ہے کہ پاکستان کے تمام قومی و صوبائی اسمبلیوں کے پولنگ سٹیشنوں کے تھیلے کھولے جائیں اور فارم نمبر 15 کی مصدقہ کاپیاں جوڈیشل کمیشن کو ارسال کی جائیں۔ جوڈیشل کمیشن کے اس اہم فیصلے نے حکمران جماعت مسلم لیگ(ن) کو فکر مند کردیا ہے جبکہ عمران خان اس فیصلے کو تاریخی قراردیتے ہوئے اپنے قریبی رفقاءکو یقین دلارہے ہیں کہ تھیلے کھولنے کا حکم انشاءاللہ فیصلہ کن ثابت ہوگا۔ جب میں نے اس فیصلے کے بارے میں الیکشن کمیشن پاکستان کے سابق سیکریٹری کنور دلشاد سے رابطہ کیا تو وہ پرجوش اور حیران کن لہجے میں بے ساختہ بولے ”یہ بہت بڑا فیصلہ ہوگیا ہے“۔ انتخابی عمل کے دوران استعمال ہونےوالا ہر فارم قانونی اہمیت کا حامل ہوتا ہے جسکے پیچھے رولز آف بزنس نہیں بلکہ عوامی نمائندگی ایکٹ 1976ءکی طاقت ہوتی ہے۔ فارم نمبر 14 میں ووٹوں کی تفصیل درج کی جاتی ہے۔ مرد و خواتین کے الگ الگ ووٹ، کاسٹ ہونیوالے کل ووٹوں اور مسترد یا ضائع ہونیوالے ووٹوں کی تعداد کا اندراج ہوتا ہے جبکہ فارم نمبر 15 میں ریٹرنگ آفیسر انتخابی حلقے کیلئے کل وصول شدہ بیلٹ پیپروں، کاسٹ ہونیوالے بیلٹ پیپروں، ضائع ہونےوالے اور بقایا بیلٹ پیپروں کی تفصیل درج کرتا ہے۔ اگر فارم نمبر 14 اور فارم نمبر 15 کا پورا ریکارڈ ہی موجود نہ ہو تو انتخابی عمل مشکوک اور غیر قانونی ہوجاتا ہے۔قانون کے مطابق الیکشن کا تمام ریکارڈ الیکشن کمیشن کے پاس ہونا چاہیئے تھا لیکن الیکشن کمیشن نا اہل ثابت ہوا اور اب چیف الیکشن کمشنر سردار محمد رضا الیکشن کمیشن کی سمت درست کررہے ہیں۔
تحریک انصاف کے سربراہ یہ دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ الیکشن کمیشن پاکستان نے مسلم لیگ(ن) کو کامیاب کرانے کیلئے اضافی بیلٹ پیپر شائع کروائے اور مخصوص انتخابی حلقوں میں پولنگ کے بعد مسلم لیگ (ن) کے اُمیدواروں کے ووٹوں میں شامل کیے گئے لہذا تھیلے کھولے جائیں اور فارم نمبر 15 کا ریکارڈ جمع کیا جائے تاکہ شائع کیے گئے بیلٹ پیپروں کی کل تعداد کی حقیقت سامنے آسکے۔ الیکشن کمیشن کے کل بیلٹ پیپروں کی تعداد کے بارے میں متضاد بیانات ریکارڈ پر ہیں۔ جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کے بعد اصل حقیقت سامنے آجائےگی۔ الیکشن کمیشن پاکستان کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے جوڈیشل کمیشن کو باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ فارم نمبر 15 کا ریکارڈ حاصل کرنے کیلئے ستر ہزار پولنگ سٹیشنوں کے ایک لاکھ چالیس ہزار تھیلے کھولنے پڑینگے جو غیر معمولی ایکسرسائز ہوگی۔ جوڈیشل کمیشن نے انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے فارم نمبر 15 جمع کرنے کا فیصلہ دے دیا اور ہر ضلع میں دسٹرکٹ مجسٹریٹ کو اپنی نگرانی میں تھیلے کھولنے کا حکم دیا اور یہ ہدایت بھی کی جن تھیلوں کی سیل ٹوٹی ہوئی ہو اور فارم 15 مسنگ ہوں انکی نشاندہی بھی کی جائے۔جوڈیشل کمیشن کے اس فیصلے کے مثبت اور منفی اثرات مرتب ہونگے۔ سنگین بے ضابطگیاں سامنے آنے پر پاکستانی عوام کا جمہوریت اور انتخابی نظام پر اعتماد مزید مجروح ہو جائیگا۔ جعلی ڈگری سکینڈل کے بعد جعلی الیکشن کے انکشافات پر پاکستان کی ساکھ عالمی سطح پر مزید متاثر ہوگی۔ البتہ اس ایکسر سائز کے بعد آنیوالے انتخابات کے صاف اور شفاف ہونے کے امکانات بڑھ جائینگے۔ ہم بحیثیت قوم کس قدر سنگدل لوگ ہیں کہ مادر وطن جس نے ہمیں عزت، شناخت اور وقار دیا۔ ہم اس کو دنیا بھر میں بدنام کرنے کے درپے رہتے ہیں۔ عوام کو اعتماد ہے کہ جوڈیشل کمیشن آئین اور قانون کیمطابق رپورٹ دیگا۔ سیاسی جماعتیں بھی اعتماد کا اظہار کررہی ہیں۔ البتہ سیاسی رہنماﺅںکی سیاسی بلوغت اور بصیرت اس وقت سامنے آئےگی جب جوڈیشل کمیشن کی رپورٹ منظر عام پر آجائےگی۔
وزیراعظم پاکستان میاں نواز شریف اگر چین کے سرکاری دوروں پر پنجاب کے وزیراعلیٰ کےساتھ دوسرے صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو بھی ہمراہ لے جاتے تو پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں شکوک و شبہات پیدا نہ ہوتے۔ آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف دونوں کی یہ کوشش رہی ہے کہ چین اقتصادی راہداری کیلئے پاکستان کو 45بلین ڈالر قرض دے اور میگا پراجیکٹس کی تکمیل حکومت اپنی نگرانی میں خود کرے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مادر وطن سے محبت کرنے اور اس کیلئے خون کی قربانی دینے والے سپہ سالار نے چین کا دورہ کرکے چینی قیادت سے درخواست کی کہ وہ پاکستان کو قرضہ دینے کی بجائے چینی کمپنیوں کے ذریعے اقتصادی راہداری کا منصوبہ مکمل کرائے تاکہ کرپشن کے امکانات ختم ہوجائیں۔ چینی قیادت نے پاکستان کے سپہ سالار کے صائب مشورے کو تسلیم کرلیا۔ چینی کمپنیاں سرمایہ کاری کرکے اپنی نگرانی میں منصوبے مکمل کرائیں گی البتہ تجارت میں دلچسپی رکھنے والے سیاستدان چینی کمپنیوں سے ٹھیکے لےکر مفادات حاصل کرنے کی کوشش کرینگے۔ عمران خان کے دھرنے نے جہاں قوم کو شعوری طور پر بیدار کیا وہاں سیاسی جماعتوں کو متحد کردیا۔ وزیراعظم میاں نواز شریف آصف علی زرداری کے کامیاب سیاسی تجربے، مفاہمت یعنی ”بقائے باہمی“ کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ جوڈیشل کمیشن کی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تفتیش کی بناءپر دباﺅ کا شکار ہیں اور پاک فوج کے آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی غیر معمولی ایکٹوازم کی وجہ سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں اس لیے وہ پارلیمنٹ اور آئینی اداروں پر انحصار کرنے کی بجائے مختلف نظریات کے حامل سیاستدانوں کو خوش رکھنے کیلئے اے پی سی بلاتے رہتے ہیں اور جواز یہ پیش کرتے ہیں کہ وہ قومی مشاورت اور اتفاق رائے سے پاکستان کے مسائل حل کرنا چاہتے ہیں۔ بظاہر یہ جذبہ خوش آئند ہے مگر درپردہ عزائم کچھ اور ہیں۔ خدا کے فضل سے پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں اتفاق رائے ہوگیا ہے۔ اے پی سی کے فیصلے کے مطابق مغربی روٹ پہلے مکمل کیا جائےگا۔ ورکنگ گروپ اور پارلیمانی کمیٹی تمام منصوبوں کی نگرانی کریگی۔
پاک فوج کی قیادت نیشنل ایکشن پلان کی کامیابی کیلئے بڑی سنجیدہ اور سرگرم ہے۔ اے پی سی سے ایک روز قبل فوجی قیادت نے وزیراعظم سے ملاقات کرکے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے حوالے سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور سندھ حکومت کی کارکردگی کو مایوس کن قراردیا۔ وزیراعظم نے دوسرے ہی روز اے پی سی کے اجلاس میں قائم علی شاہ کو اسماعیلی کمیونٹی کی بس پر وحشیانہ حملہ کرنےوالے دہشت گردوں کی گرفتاری پر شاباش دی حالاں کہ وہ پہلے ہی وزیراعلیٰ سندھ کو فون کرکے مبارک باد اور خراج تحسین پیش کرچکے تھے اس کے باوجود انہوں نے کھلے اجلاس میں بھی دوبارہ شاباش دینا ضروری سمجھا۔ کیا اس کا مقصد طاقت ور حلقوں کو یہ پیغام بھیجنا تھا کہ پاکستان کے سیاست دان متحد ہیں اور سندھ حکومت کی کارکردگی کے بارے میں سیاسی قیادت عسکری قیادت کی ہمنوا نہیں ہے۔ پاکستان کے ممتاز اور تجربہ کار صحافی عرفان صدیقی وزیراعظم کے مشیر ہیں۔ وہ ان کو ٹاک شوز، اخباری کالموں اور رپورٹوں کے بارے میں ضرور آگاہ کررہے ہونگے جن میں وفاقی حکومت کی کارکردگی اور گورنینس کے بارے میں سوالات اُٹھائے جارہے ہیں۔ وزیراعظم میڈیا کو اہمیت دیں اور گورنینس کو معیاری بنا کر عوام کو مطمئن کریں۔ عوام انکے ساتھ ہونگے تو انکی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا۔ رانا ثناءاللہ پی پی پی کے پرانے جیالے اور اب مسلم لیگ(ن) کے بے باک ترجمان ہیں۔ ان کو دوبارہ وزیر بنانے سے عوام کے جذبات مشتعل ہونگے۔ عوام کے موڈ اور مائنڈ کے برعکس کیے گئے فیصلے حکومتوں کو کمزور کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جسٹس نے کہا کہ مہذب ملکوں میں ہائی کورٹ کے جج کی انکوائری رپورٹ کے بعد سرکاری ملازمین کی جے آئی ٹی نہیں بنائی جاتی۔ وزیراعظم اگر عوامی موڈ کیخلاف فیصلے کرتے رہیں گے تو اگلے انتخابات میں انہیں خمیازہ بھگتنا پڑیگا۔ سندھ، پنجاب اور وفاقی حکومتوں کی ناقص کارکردگی کے بارے میں عوام اور فوج ایک صفحہ پر ہیں۔